وزیراعظم نے پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام میں 28.6 ارب روپے کی سبسڈی کی شفاف تقسیم پر اظہار اطمینان کیا اور بدعنوانی پر پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے فیول ریلیف پروگرام پر اب تک ہونے والی پیشرفت اور اس کی شفافیت پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ الحمدللہ، رجسٹریشن اور سبسڈی کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے نتیجے میں رجسٹریشن میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور اب زیادہ مستحق شہری اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستحق شہریوں کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی یہ شفاف سبسڈی اسکیم مستقبل میں عوامی فلاح و بہبود کے ایسے اقدامات کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگی۔
وزیراعظم نے اسکیم کے حوالے سے بہترین مانیٹرنگ اور کارگر ڈیش بورڈ ترتیب دینے پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وفاقی سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام ضرار حاشم خان اور ان کی پوری ٹیم کی پذیرائی کی، جبکہ پیٹرولیم سبسڈی اسکیم کے تحت رجسٹرڈ مستحقین کو سہولت فراہم نہ کرنے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس فوراً منسوخ کرنے کی بھی سخت ہدایت دی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سبسیڈی اسکیم کے تحت اب تک ایک کروڑ 55 لاکھ 19 ہزار 282 شہری رجسٹر ہو چکے ہیں، جن میں 15.06 ملین موٹر بائیکس اور 4 لاکھ 49 ہزار 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان شامل ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اس اسکیم کے تحت اب تک 6 کروڑ 31 لاکھ 53 ہزار 685 ٹوکن جاری ہوئے، جن میں سے 5 کروڑ 94 لاکھ 45 ہزار 347 ٹوکنز کو کامیابی سے استعمال یا ریڈییم کیا جا چکا ہے، جبکہ 4 نومبر 2026 تک 28.6 ارب روپے کی ادائیگیاں مکمل ہو چکی ہیں۔
اس کے علاوہ معلومات کی فراہمی اور شکایات کے ازالے کے لیے صارفین اور پیٹرول پمپس کے لیے الگ الگ کال سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔






