تل ابیب (جی ٹی وی نیوز اردو) — 5 نومبر 2026: غزہ میں طویل جنگ اور فلسطینی عوام کے انسانی بحران کے پس منظر میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو ایک نئے سیاسی بحران کا سامنا ہے۔ پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اب ان کی دیرینہ مذہبی اتحادی جماعت نے بھی حکومت سازی کے لیے ان کی حمایت کرنے سے انکار کردیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یونائیٹڈ توراہ جوڈازم نے صدر اسحاق ہرزوگ کے ساتھ مشاورت میں نیتن یاہو سمیت کسی بھی امیدوار کی سفارش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ جماعت گزشتہ پانچ انتخابات کے بعد نیتن یاہو کی حمایت کرتی رہی تھی۔
نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات میں اضافہ
27 اکتوبر کے انتخابات میں نیتن یاہو کی لیکود پارٹی 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بنی، لیکن ان کا قوم پرست اور مذہبی اتحاد 120 رکنی پارلیمنٹ میں صرف 53 نشستیں حاصل کرسکا۔
حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی حمایت درکار ہے۔
اب سات نشستوں والی یونائیٹڈ توراہ جوڈازم کی جانب سے سفارش نہ کرنے کے فیصلے کے بعد نیتن یاہو کے حق میں صدارتی مشاورت کے دوران سفارش کرنے والے ارکان کی تعداد 46 رہ گئی ہے۔
دوسری جانب ان کے مخالف گادی آئزن کوٹ کو 56 ارکان کی سفارشات حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
تاہم یہ سفارشات حکومت سازی کے لیے حتمی اکثریت نہیں ہیں۔
فلسطینی حقوق کے مطالبات کے ساتھ عرب جماعتوں کا اہم کردار
اسرائیل کی عرب قیادت والی جماعت رعام نے نیتن یاہو کے مخالف گادی آئزن کوٹ کی حمایت کی ہے۔
عرب سیاسی جماعتوں کے پاس مجموعی طور پر 19 نشستیں ہیں، جو حکومت سازی کی کوششوں میں اہم ثابت ہوسکتی ہیں۔
ان جماعتوں نے عرب شہریوں کے خلاف امتیازی اقدامات، مکانات کی مسماری اور تشدد جیسے مسائل اٹھائے ہیں۔
عرب سیاسی نمائندوں کی جانب سے فلسطینیوں کے لیے سیاسی مستقبل کی راہ کھولنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔
تاہم آئزن کوٹ اور ان کے بعض اتحادی عرب جماعتوں کو حکومت میں شامل کرنے یا ان کی پارلیمانی حمایت پر انحصار کرنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ اختلاف اسرائیلی سیاست میں عرب نمائندگی اور فلسطینی حقوق کے معاملے پر موجود گہری تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔
کیا نیتن یاہو کی مشکلات غزہ جنگ کا نتیجہ ہیں؟
نیتن یاہو کی حکومت کو غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں، شہری ہلاکتوں اور انسانی بحران پر بین الاقوامی تنقید کا سامنا رہا ہے۔
تاہم موجودہ حکومت سازی کے بحران کو صرف غزہ جنگ کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
نیتن یاہو کی مذہبی اتحادی جماعت کے ساتھ بنیادی اختلاف مذہبی مدارس کے طلبہ کو لازمی فوجی خدمات سے استثنیٰ دینے کے معاملے پر ہے۔
اسی طرح انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی تقسیم اور اتحاد بنانے میں مشکلات بھی موجودہ بحران کی اہم وجوہات ہیں۔
اس کے باوجود غزہ جنگ اسرائیلی قیادت کے سیاسی مستقبل اور خارجہ پالیسی سے متعلق بحث کا اہم حصہ بنی ہوئی ہے۔
کیا نیتن یاہو کے جانے سے فلسطینیوں کی مشکلات ختم ہوجائیں گی؟
نیتن یاہو کی ممکنہ اقتدار سے علیحدگی کا مطلب لازماً اسرائیلی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی نہیں ہوگا۔
ان کے اہم مخالف گادی آئزن کوٹ خود اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ ہیں اور فلسطینی مسئلے پر ان کے مؤقف کو بھی جانچنا ضروری ہوگا۔
فلسطینی عوام کے لیے بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ اسرائیل کا اگلا وزیراعظم کون ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ نئی حکومت غزہ میں شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد، مغربی کنارے میں آبادکاری اور فلسطینیوں کے سیاسی حقوق کے بارے میں کیا عملی اقدامات کرے گی۔
11 نومبر تک حکومت سازی کا فیصلہ
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو 11 نومبر تک کسی امیدوار کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپنی ہے۔
منتخب امیدوار کو ابتدائی طور پر 28 دن ملیں گے، جن میں 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔
اگر کوئی امیدوار پارلیمانی اکثریت حاصل نہ کرسکا تو اسرائیل میں ایک اور انتخاب کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
نیتن یاہو فی الحال نگران وزیراعظم ہیں اور ان کے اقتدار سے ہٹنے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
اسرائیل میں اقتدار کی جنگ جاری ہے، لیکن فلسطینی عوام کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ سیاسی قیادت کی تبدیلی ان کے حقوق، سلامتی اور مستقبل پر کیا اثر ڈالتی ہے۔
غزہ کے بحران کے درمیان اسرائیل میں چہرہ بدلنا کافی نہیں؛ اہم سوال پالیسیوں اور زمینی حالات میں حقیقی تبدیلی کا ہے۔





