تازہ ترین
ایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تا حکمِ ثانی مؤخر کر دیئےایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تا حکمِ ثانی مؤخر کر دیئے
دنیا

صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان ایران پالیسی پر نمایاں اختلافات سامنے آگئے

نائب صدر جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں اپنی پارٹی کی شکست کا ذمہ دار ایران جنگ کو قرار دے کر واشنگٹن کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان کو سنہ 2028 کے وائٹ ہاؤس کے صدارتی انتخابات کی دوڑ سے قبل خود کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دور کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایران جنگ کے حوالے سے جے ڈی وینس کا مؤقف واشنگٹن میں ایک کھلا راز تھا۔ اگرچہ انہوں نے عوامی سطح پر بارہا اس تنازع کی حمایت کی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق انتظامیہ کے حکام کے ساتھ نجی ملاقاتوں میں انہوں نے اس کی مخالفت کا اظہار بھی کیا تھا۔

ان اختلافات کو اب سے پہلے تک عوامی نظروں سے دور رکھا گیا تھا، لیکن جے ڈی وینس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ایک 600 الفاظ پر مشتمل بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے لکھا کہ اگر آپ یہ دلیل دینا چاہتے ہیں کہ یہ نقصان اٹھانا درست تھا اور اگلے 6 سالوں کے لیے سینیٹ کو کھو دینا درست فیصلہ تھا، تو پھر ایسا ہی کریں۔

انہوں نے لکھا کہ یہ دلیل دیں کہ یہ ادا کرنے کے لیے ایک قابل قدر قیمت تھی اور آپ اس سے متفق ہوں یا متفق نہ ہوں، لیکن یہ کم از کم ایک ایماندارانہ موقف ہوگا۔

یہ ایک حیران کن بیان تھا اور اس کی حالیہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، کیونکہ امریکی سیاسی تاریخ میں ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی موجودہ نائب صدر نے اہم خارجہ پالیسی کے معاملے پر صدر سے اتنے سخت انداز میں اختلاف کیا ہو۔

اس کے بعد ایک اور بڑا سرپرائز اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے، جو عام طور پر اپنے سینئر مشیروں سے مکمل وفاداری کا تقاضا کرتے ہیں، جے ڈی وینس کی اس بات سے اتفاق کیا کہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا فیصلہ کافی حد تک جنگ کی وجہ سے ہوا تھا، تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی شامل کیا کہ اگر انہیں دوبارہ یہی مواقع دیئے گئے تو وہ یہی فیصلہ دوبارہ کریں گے۔

یہ اس بات کا ابتدائی اشارہ تھا کہ اگر جے ڈی وینس صدارتی مہم شروع کرنے کا انتخاب کرتے ہیں تو صدر ٹرمپ انہیں فری ہینڈ دے سکتے ہیں۔

صحافی اور جے ڈی وینس کے دوست روڈ ڈریہر کا کہنا ہے کہ نائب صدر کے سنہ 2028 میں صدارت جیتنے کے امکانات ختم نہیں ہوئے لیکن تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ جنگ جلد از جلد ختم نہ ہوئی تو یہ ریپبلکن پارٹی اور خاص طور پر جے ڈی وینس کے لیے بدتر ہوتی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ان لوگوں کے ساتھ مکمل دھوکہ دہی تھی، جنہوں نے صدر ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا اور جنگ نے عام امریکیوں پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اس جنگ کے نتیجے میں تہران میں حکومت کی تبدیلی تو نہیں ہو سکی لیکن اس نے واشنگٹن میں حکومت کو بلکل الٹ کر رکھ دیا ہے، جو کہ ایک غیر معمولی تاریخی واقعہ ہے۔