واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز اردو) — 5 نومبر 2026: ایران کے خلاف جاری امریکی جنگ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے حامی ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت متعدد اعلیٰ حکام ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم کرنے کی کوششوں پر زور دے رہے ہیں۔
اخبار نے معاملے سے واقف افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے بعض مشیر ایران جنگ کے طویل ہونے کا ذمہ دار وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو قرار دے رہے ہیں۔
ایران کو وینزویلا سمجھنے کی غلطی؟
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بعض امریکی حکام کا خیال ہے کہ ہیگستھ نے صدر ٹرمپ کو یہ تاثر دیا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی بھی وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری جیسی مختصر اور کامیاب کارروائی ثابت ہوگی۔
تاہم ایران کے خلاف جنگ توقعات کے برعکس طویل ہوتی چلی گئی اور امریکی انتظامیہ کو فوجی، معاشی اور سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اخبار کے مطابق بعض مشیر اب وزیر دفاع کے ابتدائی اندازوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
یہ الزامات وائٹ ہاؤس کے بعض مشیروں سے منسوب ہیں؛ وزیر دفاع کی جانب سے جان بوجھ کر صدر کو گمراہ کرنے کا کوئی ثبوت رپورٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔
وینس اور روبیو مذاکرات کے حامی
رپورٹ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس ایران جنگ کے آغاز ہی سے نجی طور پر اس کے مخالف رہے، اگرچہ انہوں نے عوامی سطح پر انتظامیہ کی پالیسی کا دفاع کیا۔
وینس کو ایران کے ساتھ امن مذاکرات کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔
دوسری جانب وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی ان اعلیٰ حکام میں شامل ہیں جنہوں نے فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی حمایت کی۔
اس کے برعکس ہیگستھ کابینہ میں جنگ جاری رکھنے کے نمایاں حامیوں میں شامل رہے ہیں۔
انتخابی شکست کے بعد اختلافات مزید بڑھ گئے
تین نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی شکست کے بعد ایران جنگ پر اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے انتخابی نتائج کے بعد اپنے بیان میں ایران جنگ، توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور امریکا فرسٹ پالیسی سے انحراف کو ری پبلکن پارٹی کی شکست کی اہم وجوہات قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے بھی تسلیم کیا کہ جنگ کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں عارضی اضافے نے انتخابات پر اثر ڈالا۔
تاہم انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا۔
جنگ بڑھائی جائے یا مذاکرات کیے جائیں؟
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی انتظامیہ کے بعض عہدیدار ایران پر مزید حملے کرکے مذاکرات میں بہتر شرائط حاصل کرنے کے حامی ہیں۔
دوسرا گروہ جنگ کو مزید طول دینے کے بجائے فوجی کارروائیاں محدود کرنے اور سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دے رہا ہے۔
اس دوران پینٹاگون مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوجی وسائل، بحری جہازوں اور دفاعی نظام کی تعیناتی کی تیاریاں بھی کررہا ہے۔
یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ مذاکرات پر غور کے باوجود امریکی فوج مزید کارروائیوں کے امکانات کے لیے تیاریاں برقرار رکھے ہوئے ہے۔
کیا ٹرمپ وزیر دفاع کو ہٹائیں گے؟
وائٹ ہاؤس کے بعض مشیروں کی تنقید کے باوجود صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی عوامی سطح پر حمایت کی ہے۔
بدھ کے روز ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہیگستھ اچھا کام کررہے ہیں۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے بھی واضح کیا کہ وزیر دفاع سیاسی دباؤ کے باعث اپنے فرائض سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اس لیے فی الحال ہیگستھ کی برطرفی کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
ایران جنگ نے ٹرمپ انتظامیہ کو نئے امتحان میں ڈال دیا
ایران جنگ کے حوالے سے امریکی حکومت میں سامنے آنے والے اختلافات نے ایک اہم سوال پیدا کردیا ہے۔
کیا واشنگٹن مزید فوجی دباؤ کے ذریعے ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا، یا بڑھتے سیاسی اور معاشی اخراجات کے باعث جنگ ختم کرنے کا راستہ اختیار کرے گا؟





