تازہ ترین
ایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تا حکمِ ثانی مؤخر کر دیئےایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تا حکمِ ثانی مؤخر کر دیئے
دنیا

متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلان

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ڈرائیورز کے لیے نئے ٹریفک قوانین متعارف کرانے کا اعلان کردیا گیا ہے۔

 نئے قوانین کا اطلاق یکم جنوری 2027 سے ہوگا۔ ان تبدیلیوں کے تحت پیشہ ور ڈرائیورز کے روزانہ گاڑی چلانے کے اوقات محدود کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ بچوں کی حفاظت، ڈرائیونگ لائسنس کی مدت اور ڈرائیورز کی بینائی کی جانچ کے حوالے سے بھی نئی شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد سڑکوں پر حادثات کم کرنا اور ٹریفک کے نظام کو مزید محفوظ بنانا ہے۔

نئے ٹریفک قوانین کے تحت ٹیکسی، بس، ٹرک اور ڈیلیوری گاڑیاں چلانے والے ڈرائیورز 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 9 گھنٹے سے زیادہ گاڑی نہیں چلا سکیں گے۔ اس پابندی کا مقصد طویل وقت تک مسلسل ڈرائیونگ کرنے سے پیدا ہونے والی تھکن کو کم کرنا ہے۔ ڈرائیور کی تھکاوٹ بھی سڑک حادثات کی ایک اہم وجہ بن سکتی ہے۔ اسی لیے نیند یا شدید تھکن کی حالت میں گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ وفاقی ٹریفک کونسل کو ڈرائیونگ کے مقررہ 9 گھنٹے کے دورانیے میں تبدیلی کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق نجی اور پیشہ ور دونوں طرح کے ڈرائیورز پر ہوگا۔ اس کا مقصد مختلف حالات اور ضروریات کے مطابق ڈرائیونگ کے اوقات کو بہتر انداز میں منظم کرنا ہے۔

بچوں کی حفاظت کے لیے بھی اہم تبدیلی متعارف کرائی گئی ہے۔ نئے قوانین کے مطابق 4 سال یا اس سے کم عمر بچوں کو گاڑی میں بٹھانے کے لیے مخصوص حفاظتی نشست استعمال کرنا لازمی ہوگا۔ یہ نشست بچے کے قد اور وزن کے مطابق ہونی چاہیے۔ اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر مناسب طریقے سے نصب کرنا بھی ضروری ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد سفر کے دوران چھوٹے بچوں کو چوٹ اور حادثات کے خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

ڈرائیونگ لائسنس کی مدت میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ نئے ضوابط کے مطابق متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے شہریوں کو 10 سال کے لیے ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جائیں گے۔ جبکہ یو اے ای میں مقیم غیر ملکی افراد کے لائسنس کی مدت 5 سال ہوگی۔ اس طرح شہریوں اور غیر ملکی رہائشیوں کے لیے لائسنس کی مدت الگ الگ مقرر کردی گئی ہے۔

نئے قوانین میں ڈرائیورز کی بینائی کی جانچ کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ اب ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید سے پہلے بینائی کا ٹیسٹ لازمی ہوگا۔ حکام نے مختلف اقسام کی گاڑیاں چلانے والے افراد کے لیے بینائی کے الگ الگ معیار بھی مقرر کیے ہیں۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ گاڑی چلانے والے افراد سڑک پر موجود دیگر گاڑیوں، اشاروں اور رکاوٹوں کو واضح طور پر دیکھ سکیں۔

متحدہ عرب امارات میں ان تبدیلیوں کے بعد ڈرائیورز کو نئے ضوابط کے مطابق اپنی تیاری کرنا ہوگی۔ خاص طور پر ٹیکسی، ٹرک، بس اور ڈیلیوری ڈرائیورز کو اپنے ڈرائیونگ اوقات کا خیال رکھنا ہوگا تاکہ نئے قوانین کی خلاف ورزی سے بچا جا سکے۔