واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز اردو) — 5 نومبر 2026: امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کی جانب سے نئے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے، اسرائیل کی فوجی امداد محدود کرنے اور جیفری ایپسٹین سے متعلق مزید دستاویزات منظرِ عام پر لانے کے مطالبات امریکی سیاسی بحث میں نمایاں ہوگئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کی زیادہ سخت نگرانی متوقع ہے۔
ایران جنگ ختم کرنے کے لیے کانگریس کا اختیار استعمال کرنے کا مطالبہ
ڈیموکریٹک ارکان پہلے بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو کانگریس کی منظوری سے مشروط کرنے کی کوشش کرچکے ہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ جنگ شروع کرنے اور اس کے لیے فنڈز مختص کرنے جیسے فیصلوں میں کانگریس کے آئینی اختیارات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
روئٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس دفاعی اخراجات پر پابندیوں، قانون سازی اور حکومتی عہدیداروں سے جواب طلبی کے ذریعے ایران جنگ پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔
تاہم صدر ٹرمپ کے پاس قانون سازی کو ویٹو کرنے کا اختیار موجود ہے، اس لیے کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے سے جنگ فوری طور پر ختم نہیں ہوگی۔
اسرائیل کی اربوں ڈالر کی امداد بھی سوالوں کی زد میں
امریکی سیاست میں اسرائیل کو فوجی امداد دینے کے معاملے پر بھی اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
امریکا اسرائیل کو معمول کے دفاعی تعاون کے تحت سالانہ تقریباً 3 ارب 80 کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کرتا رہا ہے، جبکہ حالیہ جنگوں کے دوران اضافی معاونت بھی دی گئی۔
جولائی 2026 میں ایوانِ نمائندگان میں اسرائیل کی سیکیورٹی امداد ختم کرنے کی ایک تجویز پر 103 ڈیموکریٹ ارکان نے حمایت میں ووٹ دیا، جبکہ 98 نے مخالفت کی۔
اگرچہ یہ تجویز منظور نہیں ہوئی، لیکن ووٹنگ سے ظاہر ہوا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کو غیرمشروط فوجی امداد دینے کے معاملے پر اختلافات نمایاں ہوچکے ہیں۔
اسرائیل کی امداد کے حامی ارکان اسے امریکی قومی سلامتی اور علاقائی دفاعی تعاون کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین غزہ میں شہری ہلاکتوں اور امریکی ہتھیاروں کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہیں۔
ایپسٹین فائلیں منظرِ عام پر لانے کا معاملہ
دوسری جانب جیفری ایپسٹین سے متعلق سرکاری ریکارڈ کی شفافیت کا معاملہ بھی کانگریس میں زیرِ بحث ہے۔
ڈیموکریٹک ارکان محکمہ انصاف سے مزید دستاویزات، تحقیقات کی تفصیلات اور متعلقہ حکومتی فیصلوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
جولائی 2026 میں ایوانِ نمائندگان کی عدالتی کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ رکن جیمی راسکن نے ایپسٹین کے غیرملکی شخصیات سے روابط سے متعلق مزید ریکارڈ طلب کیا تھا۔
تاہم ایپسٹین کی دستاویزات میں کسی شخصیت کا نام آنے سے بذاتِ خود اس کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوتا۔ اسی طرح متاثرین کی شناخت اور نجی معلومات کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اگلا امتحان
ڈیموکریٹس کی انتخابی کامیابی کے بعد امریکی کانگریس میں ایران جنگ، اسرائیل کی امداد اور حکومتی شفافیت سے متعلق تحقیقات اور سماعتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
تاہم نئی منتخب کانگریس جنوری 2027 میں ذمہ داریاں سنبھالے گی اور اس کے بعد قانون سازی اور نگرانی کے اختیارات کا نیا توازن قائم ہوگا۔
امریکی انتخابات کے بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس کی نئی اکثریت ٹرمپ انتظامیہ کی جنگی اور خارجہ پالیسیوں میں عملی تبدیلی لاسکے گی، یا صدر کے آئینی اختیارات ان کوششوں کو محدود کردیں گے؟





