تازہ ترین
طالبان کی پالیسیاں افغانستان کی ثقافتی و تاریخی شناخت کے لیے خطرہ ہیں، افغان نمائندے کا اقوام متحدہ میں خطابپاکستان اور ترکیہ کی کمپنیوں کا فیصل آباد میں 55 ملین ڈالر کا ڈیری پروسیسنگ پلانٹ قائم کرنے کا اعلانبلوچستان کی سیاسی قیادت کا گوادر میں فتنہ الہندوستان کا حملہ ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسیناسلامیہ کالج پشاور کے اساتذہ کا گورنر خیبر پختونخوا کو خط، 15 فیصد الاؤنس کا مطالبہسیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، 5 ہفتوں کے دوران دہشت گرد حملوں میں 66 فیصد کمیکوئٹہ کی تاریخی ہنہ جھیل خشک سالی کا شکار، پانی ختم ہونے سے مچھلیاں مرنے لگیںٹنڈوآدم کے قریب کار اور بس میں خوفناک تصادم، بچے اور خاتون سمیت 4 افراد جاں بحقعمرکوٹ کے نوجوان کرکٹر قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بن گئے، علاقے میں جشن، مٹھائیاں تقسیمطالبان کی پالیسیاں افغانستان کی ثقافتی و تاریخی شناخت کے لیے خطرہ ہیں، افغان نمائندے کا اقوام متحدہ میں خطابپاکستان اور ترکیہ کی کمپنیوں کا فیصل آباد میں 55 ملین ڈالر کا ڈیری پروسیسنگ پلانٹ قائم کرنے کا اعلانبلوچستان کی سیاسی قیادت کا گوادر میں فتنہ الہندوستان کا حملہ ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسیناسلامیہ کالج پشاور کے اساتذہ کا گورنر خیبر پختونخوا کو خط، 15 فیصد الاؤنس کا مطالبہسیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، 5 ہفتوں کے دوران دہشت گرد حملوں میں 66 فیصد کمیکوئٹہ کی تاریخی ہنہ جھیل خشک سالی کا شکار، پانی ختم ہونے سے مچھلیاں مرنے لگیںٹنڈوآدم کے قریب کار اور بس میں خوفناک تصادم، بچے اور خاتون سمیت 4 افراد جاں بحقعمرکوٹ کے نوجوان کرکٹر قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بن گئے، علاقے میں جشن، مٹھائیاں تقسیم
پاکستان

کوئٹہ کی تاریخی ہنہ جھیل خشک سالی کا شکار، پانی ختم ہونے سے مچھلیاں مرنے لگیں

ہنہ جھیل

کوئٹہ کی ہنہ جھیل شدید خشک سالی کا شکار ہو گئی، جس کے باعث جھیل کا بیشتر حصہ سوکھ گیا، واٹر اسپورٹس سمیت سیاحتی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے دلکش اور خوبصورت نواحی علاقے ہنہ میں واقع تاریخی ہنہ جھیل میں پانی کی سطح انتہائی خطرناک حد تک گر جانے سے شدید خشک سالی کے مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

علاقے میں معمول سے کم بارشیں ہونے کی وجہ سے جھیل کا بیشتر حصہ مکمل طور پر خشک ہو چکا ہے اور پانی کی نایابی کی وجہ سے جھیل میں موجود مچھلیاں مرنے لگی ہیں۔ اس سنگین صورتحال نے نہ صرف مقامی ماحولیات کو نقصان پہنچایا ہے، بلکہ اس تفریحی مقام کی رونقیں بھی ماند پڑ گئی ہیں۔

واٹر اسپورٹس اکیڈمی کے انچارج اور ماہرِ ماحولیات حیات اللہ دورانی کے مطابق جھیل کے خشک ہونے سے یہاں ہونے والی تمام واٹر اسپورٹس کی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جھیل کی اس تباہ حال صورتحال کی وجہ سے یہاں انے والے مقامی سیاحوں کی آمد بھی شدید متاثر ہوئی ہے جبکہ موسمِ سرما میں دوسرے ممالک اور علاقوں سے انے والے مہمان آبی پرندوں کی آمد پر بھی انتہائی منفی اثر پڑا ہے۔ سیاحتی اور ماحولیاتی حلقوں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔