تازہ ترین
طالبان کی پالیسیاں افغانستان کی ثقافتی و تاریخی شناخت کے لیے خطرہ ہیں، افغان نمائندے کا اقوام متحدہ میں خطابپاکستان اور ترکیہ کی کمپنیوں کا فیصل آباد میں 55 ملین ڈالر کا ڈیری پروسیسنگ پلانٹ قائم کرنے کا اعلانبلوچستان کی سیاسی قیادت کا گوادر میں فتنہ الہندوستان کا حملہ ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسیناسلامیہ کالج پشاور کے اساتذہ کا گورنر خیبر پختونخوا کو خط، 15 فیصد الاؤنس کا مطالبہسیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، 5 ہفتوں کے دوران دہشت گرد حملوں میں 66 فیصد کمیکوئٹہ کی تاریخی ہنہ جھیل خشک سالی کا شکار، پانی ختم ہونے سے مچھلیاں مرنے لگیںٹنڈوآدم کے قریب کار اور بس میں خوفناک تصادم، بچے اور خاتون سمیت 4 افراد جاں بحقعمرکوٹ کے نوجوان کرکٹر قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بن گئے، علاقے میں جشن، مٹھائیاں تقسیمطالبان کی پالیسیاں افغانستان کی ثقافتی و تاریخی شناخت کے لیے خطرہ ہیں، افغان نمائندے کا اقوام متحدہ میں خطابپاکستان اور ترکیہ کی کمپنیوں کا فیصل آباد میں 55 ملین ڈالر کا ڈیری پروسیسنگ پلانٹ قائم کرنے کا اعلانبلوچستان کی سیاسی قیادت کا گوادر میں فتنہ الہندوستان کا حملہ ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسیناسلامیہ کالج پشاور کے اساتذہ کا گورنر خیبر پختونخوا کو خط، 15 فیصد الاؤنس کا مطالبہسیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، 5 ہفتوں کے دوران دہشت گرد حملوں میں 66 فیصد کمیکوئٹہ کی تاریخی ہنہ جھیل خشک سالی کا شکار، پانی ختم ہونے سے مچھلیاں مرنے لگیںٹنڈوآدم کے قریب کار اور بس میں خوفناک تصادم، بچے اور خاتون سمیت 4 افراد جاں بحقعمرکوٹ کے نوجوان کرکٹر قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بن گئے، علاقے میں جشن، مٹھائیاں تقسیم
پاکستان

سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، 5 ہفتوں کے دوران دہشت گرد حملوں میں 66 فیصد کمی

5 ہفتوں

سیکیورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں گزشتہ 5 ہفتوں کے دوران ملک بھر میں دہشت گردانہ حملوں میں 66 فیصد کی واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے مسلسل اور کامیاب آپریشنز کے مثبت نتائج سامنے انے لگے ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 ہفتوں کے دوران دہشت گردانہ حملوں میں تقریباً 66 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 18 سے 24 ستمبر کے دوران جہاں 61 حملے ریکارڈ کیے گئے تھے، وہیں 16 سے 22 اکتوبر کے ہفتے میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 21 رہ گئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں مجموعی عسکریت پسندانہ حملوں میں 38 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ 16 سے 22 اکتوبر تک دہشت گردانہ حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد بھی 20 سے کم ہو کر 11 رہ گئی ہے۔

اس عرصے کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 10 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کرتے ہوئے 33 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا۔ رپورٹ میں فتنہ الہندوستان میں قیادت کے داخلی تنازع اور فتنہ الخوارج کی بدلتی ہوئی پروپیگنڈا حکمت عملی کے اثرات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔