تازہ ترین
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیںدل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیں
پاکستان

سرکاری عہدے، مبینہ مالی بے ضابطگیاں اور کروڑوں کے اثاثے؛ فضل الرحمٰن کے بھائی ضیاء الرحمٰن کے سرکاری کیریئر پر سوالیہ نشان

ضیاء الرحمٰن کی تقرریاں

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی ضیاء الرحمٰن کی سرکاری ملازمت میں شمولیت، اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیوں اور مالی معاملات ایک بار پھر سوالات کی زد میں ہیں۔

ان کے حوالے سے غیر قانونی بھرتی، اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، سرکاری اراضی کی لیزنگ، آمدن سے زائد اثاثوں اور سرکاری مشینری کی خریداری و فروخت میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، جن کی شفاف تحقیقات اور متعلقہ اداروں کی کارروائیوں کی تفصیلات منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

2007 میں صوبائی سول سروس میں بھرتی پر سوالات

اس معاملے کا آغاز 2007 سے جوڑا جاتا ہے، جب متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کی خیبر پختونخوا حکومت کے دور میں ضیاء الرحمٰن کو صوبائی سول سروس میں سیکشن آفیسر کے طور پر بھرتی کیا گیا۔ اس وقت اکرم خان درانی صوبے کے وزیراعلیٰ تھے اور جے یو آئی (ف) کو صوبائی حکومت میں نمایاں سیاسی اثر و رسوخ حاصل تھا۔

الزامات کے مطابق ضیاء الرحمٰن کی بھرتی میں معمول کے قواعد و ضوابط اور میرٹ کے تقاضوں کو نظرانداز کیا گیا۔ اس تناظر میں سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آیا ان کی تقرری مسابقتی طریقہ کار کے تحت ہوئی یا اس میں سیاسی سفارش اور اثر و رسوخ استعمال کیا گیا۔ تاہم اس دعوے کی حتمی جانچ کے لیے بھرتی کا اصل ریکارڈ، متعلقہ قواعد اور تقرری کے احکامات سامنے آنا ضروری ہیں۔

گریڈ 18 سے گریڈ 20 کے عہدے تک رسائی کیسے ہوئی؟

ضیاء الرحمٰن کی تعیناتیوں کے حوالے سے دوسرا اہم سوال کمشنر افغان مہاجرین کے عہدے پر ان کی تقرری ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق گریڈ 18 میں بھرتی ہونے والے افسر کو گریڈ 20 کے اہم عہدے پر تعینات کیا گیا۔ اس غیر معمولی تعیناتی کے قانونی جواز، مطلوبہ اہلیت اور انتظامی منظوریوں کی تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

2016 میں ضیاء الرحمٰن کی بطور کمشنر افغان مہاجرین تعیناتی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں مبینہ سیاسی مداخلت کے معاملے پر چیلنج بھی کیا گیا۔ اس مقدمے میں اٹھائے گئے اعتراضات اور عدالت کے حتمی فیصلے کی تفصیلات سامنے آنا اس معاملے کی مکمل تصویر واضح کرنے کے لیے اہم ہیں۔

نیب انکوائری اور کراچی میں تعیناتی کا تنازع

2020 میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے ضیاء الرحمٰن کی صوبائی سول سروس میں مبینہ غیر قانونی شمولیت کے معاملے پر انکوائری شروع کی۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق بعد ازاں یہ انکوائری بند کردی گئی، تاہم اس کی بندش کی وجوہات اور تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی تفصیلات عوامی سطح پر واضح نہیں۔

ضیاء الرحمٰن کی کراچی کے ضلع وسطی میں ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے تعیناتی بھی تنازعات کا موضوع بنی۔ بعد ازاں انہیں خیبر پختونخوا واپس بھیج دیا گیا۔ اس تعیناتی اور واپسی کے انتظامی پس منظر سے متعلق تفصیلات بھی سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ واضح ہوسکے کہ فیصلے کن وجوہات اور قواعد کے تحت کیے گئے۔

265 ایکڑ سرکاری اراضی کی لیزنگ کے الزامات

کراچی میں ضیاء الرحمٰن سمیت بعض اعلیٰ سرکاری افسران کے حوالے سے 265 ایکڑ سرکاری اراضی کی مبینہ غیر قانونی لیزنگ کے الزامات بھی سامنے آئے۔ بتایا گیا کہ یہ زمین لانڈھی میں اسپورٹس کمپلیکس کے قیام کے لیے مختص تھی۔ اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ سرکاری زمین کو کس قانونی اختیار کے تحت لیز پر دیا گیا، منظوری کس نے دی اور اس سے کس کو فائدہ پہنچا؟

اس معاملے کی شفاف جانچ کے لیے زمین کی ملکیت، مختص کرنے کے اصل مقصد، لیز کی دستاویزات، متعلقہ محکموں کی منظوریوں اور ممکنہ مالی فوائد کی تفصیلات سامنے آنا ضروری ہیں۔

آمدن سے زائد اثاثے اور سرکاری مشینری کی خرید و فروخت

ضیاء الرحمٰن کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات بھی نیب اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانچ پڑتال کا موضوع رہے ہیں۔ ان کے اثاثوں اور معلوم ذرائع آمدن کے درمیان مطابقت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔ اس معاملے میں تحقیقات کی نوعیت، اثاثوں کی تفصیلات اور متعلقہ اداروں کے نتائج عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح کمشنر افغان مہاجرین کی حیثیت سے ان کے دور میں سرکاری مشینری کی خریداری اور بعد ازاں فروخت کے معاملات میں مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری وسائل کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات بھی سامنے آئے۔ ان معاملات میں خریداری کے طریقہ کار، مشینری کی اصل قیمت، فروخت کی رقم اور سرکاری خزانے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کی تفصیلات کی جانچ اہمیت رکھتی ہے۔

نیب اور ایف آئی اے سے تحقیقات کی تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ

ایک ہی افسر کے حوالے سے بھرتی، اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی، سرکاری اراضی کی مبینہ لیزنگ، اثاثوں اور سرکاری مشینری کے معاملات پر مختلف اوقات میں سوالات اٹھائے جانے کے بعد متعلقہ اداروں کی ذمہ داری مزید اہم ہوجاتی ہے۔ نیب اور ایف آئی اے کو ان معاملات کی تحقیقات اور ان کے اختتام کی وجوہات واضح کرنی چاہئیں تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کہ الزامات میں کتنی صداقت تھی اور کن بنیادوں پر کارروائی آگے بڑھائی گئی یا بند کی گئی۔

مولانا فضل الرحمٰن سے بھی یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آیا ان کے بھائی کی سرکاری تقرریوں یا مالی معاملات میں ان کا سیاسی اثر و رسوخ استعمال ہوا؟ اگر تمام تقرریاں اور معاملات قواعد و ضوابط کے مطابق تھے تو متعلقہ دستاویزات، عدالتی کارروائیوں اور تحقیقاتی نتائج کو سامنے لانے سے شکوک و شبہات دور ہوسکتے ہیں۔

سرکاری عہدے اور قومی وسائل عوام کی امانت ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ضیاء الرحمٰن سے متعلق تمام الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، متعلقہ ریکارڈ سامنے لایا جائے اور کسی بھی بے ضابطگی کے ثابت ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔