تازہ ترین
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیںدل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیں
دنیا

افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملے

بگرام

افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی آنے کی اطلاعات ہیں، مختلف مزاحمتی گروہوں کی جانب سے ملک کے متعدد صوبوں میں طالبان رجیم کے اہلکاروں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق 25 سے 30 اکتوبر کے دوران 12 صوبوں میں مزاحمتی گروہوں کی جانب سے 19 حملے کیے گئے، جن میں طالبان رجیم کے 22 اہلکاروں کی ہلاکت اور 16 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

25 اکتوبر کو افغان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) نے غور، زابل، غزنی، قندھار اور بدخشاں میں طالبان رجیم کے اہلکاروں کو مختلف مقامات پر 6 حملوں میں نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں 8 اہلکاروں کی ہلاکت اور 7 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

26 اکتوبر کو اے یو ایف نے پروان میں طالبان رجیم کی ایک چوکی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ 28 اکتوبر کو کاپیسا کے ضلع تگاب میں طالبان رجیم کے سیکیورٹی اہلکار کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ملا ثمر گل کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ اسی روز زابل میں طالبان رجیم کے ایک انٹیلی جنس اہلکار کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

29 اور 30 اکتوبر کے دوران اے یو ایف نے قندھار کے اسپن بولدک اور ارغستان جبکہ پکتیا کے گردیز میں 3 حملے کیے۔ ان کارروائیوں میں طالبان رجیم کے 3 اہلکار ہلاک اور ایک رینجر گاڑی تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) نے بھی 25 اکتوبر کو کابل میں طالبان رجیم کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس میں 2 اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ 27 اکتوبر کو کنڑ میں طالبان رجیم کی چوکی پر حملے میں ایک اہلکار کی ہلاکت اور 3 کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ (این آئی ایف) نے 28 اور 29 اکتوبر کو کابل میں طالبان رجیم کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جن میں مجموعی طور پر 3 اہلکار ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ 30 اکتوبر کو سمنگان میں طالبان رجیم کی رینجر گاڑی پر حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور 3 کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

26 اکتوبر کو افغانستان ریپبلکن فرنٹ (اے آر ایف) نے غزنی میں طالبان رجیم کے انٹیلی جنس اہلکار کو نشانہ بنایا، جس میں ایک اہلکار کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔

دوسری جانب افغان گرین ٹرینڈ نے لغمان میں طالبان انٹیلی جنس سے متعلق دستاویزات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ گروپ کے مطابق ان دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لغمان میں تقریباً 400 افراد طالبان رجیم کے خلاف ہتھیار اٹھا چکے ہیں۔

افغان گرین ٹرینڈ کے مطابق 28 اکتوبر کو بامیان کے ضلع کہمرد میں طالبان رجیم کی ایک لاجسٹک گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی نذرِ آتش ہوگئی۔