کراچی میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آج صبح شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 24 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ دن کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 سے 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ شہر میں ہوا میں نمی کا تناسب 35 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب کراچی میں موسمی تبدیلی، گرد و غبار اور فضائی آلودگی کے باعث انفلوئنزا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ نزلہ، زکام اور فلو سے متاثرہ افراد کی بڑی تعداد سرکاری اور نجی اسپتالوں کا رخ کر رہی ہے۔ اسپتالوں کے حکام کے مطابق مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس سال انفلوئنزا کا سیزن معمول سے پہلے شروع ہو گیا ہے۔ عام طور پر دسمبر اور جنوری میں اس بیماری کے کیسز زیادہ سامنے آتے ہیں، لیکن اس بار گزشتہ ایک سے دو ماہ کے دوران ہی مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے۔
جناح اسپتال کے انچارج کے مطابق روزانہ 80 سے زائد انفلوئنزا کے مریض رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اسپتال میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد پہلے کے مقابلے میں دگنی ہو چکی ہے۔ اسی طرح سول اسپتال میں بھی روزانہ 50 سے زائد مریض علاج کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
آغا خان اسپتال کے ماہرِ متعدی امراض پروفیسر ڈاکٹر فیصل محمود نے بتایا کہ کراچی میں انفلوئنزا کا پھیلاؤ توقع سے زیادہ تیزی سے ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران تقریباً 200 کیسز کی باقاعدہ تصدیق ہوئی ہے۔ تاہم بہت سے مریض ٹیسٹ نہیں کرواتے، اس لیے متاثرہ افراد کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر عرفان صدیقی نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ انفلوئنزا ایک متعدی بیماری ہے۔ گھر میں ایک فرد کے متاثر ہونے سے دیگر افراد کو بھی بیماری لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے مریض کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں تاکہ گھر کے دوسرے افراد محفوظ رہ سکیں۔
طبی ماہرین نے شہریوں کو گرد و غبار اور فضائی آلودگی سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔ باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال کریں اور صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔ انفلوئنزا سے متاثرہ افراد سے مناسب فاصلہ رکھیں۔ اگر فلو کی علامات ظاہر ہوں یا طبیعت زیادہ خراب ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔






