تازہ ترین
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیںدل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیں
پاکستان

کراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروع

ماہی گیروں کی پراسرار اموات

کراچی (جی ٹی وی نیوز اردو): کراچی میں ایک ہفتے کے دوران 4 ماہی گیروں کی یکے بعد دیگرے پراسرار اموات نے کئی سوالات کھڑے کردیے، واقعے کے بعد سکھن پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

پولیس کے مطابق چاروں ماہی گیر تقریباً ایک ماہ قبل سمندر میں گئے تھے اور ایک ہفتہ قبل واپس لوٹے تھے۔ واپسی کے چند روز بعد ان کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی اور مختلف اوقات میں چاروں ماہی گیر جان کی بازی ہار گئے۔

جاں بحق ہونے والے ماہی گیروں کی شناخت صدیق، عثمان، حسین اور ہاشم کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق دو ماہی گیروں کا انتقال 5 روز قبل، ایک کا گزشتہ روز جبکہ چوتھے ماہی گیر کی موت آج ہوئی۔

اہل خانہ کے مطابق سمندر سے واپسی کے بعد چاروں ماہی گیروں نے طبیعت خراب ہونے کی شکایت کی۔ انہیں گردوں میں درد محسوس ہوا، جس پر علاج کے لیے جناح اسپتال بھی لے جایا گیا۔ طبیعت دوبارہ بگڑنے پر ماہی گیروں کو ایک نجی اسپتال سے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ چاروں ماہی گیروں کو پیشاب اور پاخانہ آنا بند ہوگیا تھا۔ چاروں مختلف اسپتالوں میں زیر علاج رہے، تاہم ڈاکٹروں کی جانب سے ان کی اموات کو طبعی قرار دیا گیا ہے۔

ایک ہی عرصے میں سمندر سے واپس آنے والے چار ماہی گیروں کی یکے بعد دیگرے اموات کے بعد واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے سکھن پولیس نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

پولیس کے مطابق اہل خانہ نے واقعے پر قانونی کارروائی سے انکار کردیا ہے، تاہم چاروں اموات کے حالات اور ماہی گیروں کی بیماری سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔