آزاد جموں و کشمیر کے ضلع باغ کے گاؤں پندی میں پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے پولیس نے فسادی عناصر پر عام شہریوں کے گھروں کو تخریبی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کے پس پردہ کردار کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
ضلع باغ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس امیر الدین کے مطابق 29 اکتوبر کو پندی گاؤں میں پیش آنے والے واقعے میں خواتین اور 2 معصوم بچوں سمیت انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد شرپسند عناصر کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی بے دریغ فائرنگ کی گئی۔
ایس پی امیر الدین نے بتایا کہ دھماکے کے بعد متاثرہ گھر کی دیواروں پر موجود نشانات اور فرش پر گڑھا نہ ہونے سے بظاہر یہ بات سامنے آتی ہے کہ بارودی مواد گھر کے اندر ہی رکھا گیا تھا۔
ان کے مطابق واقعے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ یہ انتشاری عناصر غریب شہریوں کے گھروں کو اپنے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی جانیں خطرے میں پڑ رہی ہیں۔
ایس پی امیر الدین نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد فسادی جتھے کی جانب سے سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم شروع کی گئی اور واقعے کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ عناصر روزِ اول سے ریاست سے ٹکراؤ کے لیے سوشل میڈیا کو بطورِ خاص استعمال کر رہے ہیں اور واقعات کے حوالے سے اپنا بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایس پی امیر الدین کا کہنا تھا کہ معصوم شہریوں کا خون بہانے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر عبرت ناک سزا دی جائے گی۔






