وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی اور بھارت کے ساتھ ہونے والی حالیہ جنگ میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا، کیونکہ بھارت اور اس کی فوج نے خود اس حوالے سے اعتراف کیا۔
سیالکوٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں بھی جنگیں ہوئیں تاہم کسی نہ کسی حوالے سے ابہام باقی رہتا تھا، لیکن بھارت کے ساتھ یہ پہلی جنگ تھی جس میں کوئی ابہام نہیں اور یہ پاکستان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے 1991 میں سیاست میں قدم رکھا اور 36 سال سے ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ سیالکوٹ کو اپنی پہچان قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شہر کے عوام کی بہتری ان کی ذمہ داری ہے، تاہم کبھی کبھی انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ تھک گئے ہیں۔
خواجہ آصف نے اپنی سیاسی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مختلف ادوار میں کئی نشیب و فراز دیکھے۔ مشرف دور میں اٹک قلعے میں قید رہے اور مجموعی طور پر چار مرتبہ جیل کاٹی۔ ان کے مطابق 2020 میں پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں نیب کی حراست میں بھی 6 ماہ گزارے۔
انہوں نے کہا کہ نیب کی حراست کے دوران وہ حکام سے پوچھتے رہے کہ ان کے خلاف چارج کیا ہے، تاہم انہیں قید کرنے والے بھی یہ بتانے میں ناکام رہے کہ ان پر الزام کیا عائد کیا گیا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سیاسی حکومتیں جب کسی کو گرفتار کرنا چاہتی ہیں تو پہلے گرفتاری عمل میں لاتی ہیں اور بعد میں سوچتی ہیں کہ کون سا چارج لگانا ہے۔ ان کے مطابق انتقامی سیاست کبھی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوتی۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان آج سفارتی سطح پر ایک مقام رکھتا ہے اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں سفارتی کامیابیاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے صدر متعدد مرتبہ طیاروں کے گرائے جانے کا ذکر کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اسلامی ممالک کو ایک راستہ دکھایا ہے کہ سمندر پار اڈے ان کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ اسرائیل کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں۔






