بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے روزانہ چہل قدمی کرنا ایک آسان اور مفید عادت ثابت ہو سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق باقاعدگی سے واک کرنے سے نہ صرف دل کی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ جسمانی فٹنس میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
امریکا کے کلیولینڈ کلینک کے ماہرین کے مطابق چہل قدمی دل کے افعال کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ جب دل بہتر انداز میں کام کرتا ہے تو خون کو جسم میں پہنچانے کے لیے اسے کم محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس کے نتیجے میں شریانوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے اور بلڈ پریشر کی سطح میں بہتری آ سکتی ہے۔
تاہم صرف کبھی کبھار واک کرنا کافی نہیں۔ اس کے بہتر نتائج کے لیے چہل قدمی کو روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بنانا ضروری ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کے لیے کتنی دیر واک کرنی چاہیے؟
طبی تحقیقات میں اس حوالے سے مختلف اوقات اور طریقوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ 2024 میں برٹش جرنل آف کارڈیک نرسنگ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد اگر 15 ہفتوں تک ہر ہفتے 3 سے 5 مرتبہ واک کریں تو ان کے بلڈ پریشر میں کمی آ سکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ہر مرتبہ 20 سے 40 منٹ تک معتدل رفتار سے چہل قدمی کرنا مفید ہو سکتا ہے۔ اس دوران رفتار ایسی ہونی چاہیے کہ جسمانی سرگرمی بھی جاری رہے اور سانس لینے میں غیر معمولی دشواری بھی نہ ہو۔
اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ باقاعدہ واک بلڈ پریشر کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم ہر شخص کی جسمانی حالت مختلف ہوتی ہے، اس لیے ورزش کا دورانیہ اپنی صحت کے مطابق رکھنا چاہیے۔
چہل قدمی دل اور میٹابولک صحت کے لیے کیوں ضروری ہے؟
امریکا کے سیڈرز سائنائی میڈیکل سینٹر کے ماہر امراض قلب کرسٹوفر لی کے مطابق جسمانی سرگرمی کو مسلسل جاری رکھنا میٹابولک صحت کے لیے اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چہل قدمی ایک ایسی ورزش ہے جسے روزمرہ معمولات میں آسانی سے شامل کیا جا سکتا ہے۔
واک کرنے سے جسمانی فٹنس بہتر ہوتی ہے اور دل کو صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے لیے کسی خاص جگہ یا مہنگے سامان کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ لوگ اپنے گھر کے قریب، پارک یا کسی محفوظ راستے پر چہل قدمی کر سکتے ہیں۔
دوستوں کے ساتھ واک کرنے کا ایک اور فائدہ
ماہرین کے مطابق دوستوں یا خاندان کے افراد کے ساتھ چہل قدمی کرنے سے صرف جسمانی صحت کو ہی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ سماجی میل جول بھی بڑھتا ہے۔
لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے اور بات چیت کرنے سے تنہائی کا احساس کم ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس طویل عرصے تک لوگوں سے الگ تھلگ رہنا دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق سماجی تنہائی اور اکیلے پن سے ہارٹ اٹیک یا امراض قلب کے باعث موت کا خطرہ 29 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح فالج کا خطرہ بھی 32 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔
بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے کے لیے واک کے ساتھ احتیاط بھی ضروری
چہل قدمی بلڈ پریشر بہتر رکھنے میں مددگار ہو سکتی ہے، لیکن ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنی ادویات ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر بند نہیں کرنی چاہئیں۔ واک شروع کرنے سے پہلے اپنی جسمانی حالت اور صحت کے مسائل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اگر ورزش کے دوران سینے میں درد، شدید سانس پھولنے یا چکر آنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو سرگرمی روک کر طبی مدد حاصل کرنی چاہیے۔
مجموعی طور پر روزانہ یا ہفتے میں کئی مرتبہ 20 سے 40 منٹ تک معتدل رفتار سے چہل قدمی کرنا دل کی صحت اور بلڈ پریشر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس عادت کو مستقل اپنانے سے جسمانی فٹنس بہتر بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔






