تازہ ترین
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیںدل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیں
صحت

اصلی اور نقلی دوا کی پہچان کیسے کریں؟ وفاقی وزیر صحت نے آسان طریقہ بتا دیا

پاکستان میں جعلی ادویات کی فروخت روکنے کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بتایا ہے کہ اب شہری موبائل فون کے ذریعے دوا کے اصلی یا نقلی ہونے کی جانچ کر سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے موبائل ایپ اور بار کوڈ اسکین کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ملک سے جعلی ادویات کا خاتمہ چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں۔ اس وقت ملک میں استعمال ہونے والی تقریباً 75 ہزار ادویات کا ڈیٹا بھی موجود ہے۔

موبائل سے دوا اصلی ہے یا نقلی، کیسے معلوم ہوگا؟

وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ جعلی ادویات کی شناخت کا نیا نظام اگلے ماہ سے کام شروع کر دے گا۔ اس نظام کے تحت دوا کی پیکنگ، لیبل یا شیشی پر موجود بار کوڈ کو موبائل فون سے اسکین کرنا ہوگا۔ اس کے بعد صارف کو دوا کے بارے میں معلومات مل سکیں گی اور اس کی اصلی یا جعلی ہونے کی نشاندہی ہو سکے گی۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق نومبر کے آخر میں جب شہری دوا خریدنے جائیں تو اپنا موبائل فون ساتھ رکھیں۔ دوا کے لیبل یا شیشی پر موجود بار کوڈ کو اسکین کرنے سے اس کی جانچ کی جا سکے گی۔ اگر دوا جعلی ہوئی تو موبائل اسکرین پر سرخ نشان ظاہر ہوگا۔

اس سہولت سے شہریوں کو دوا خریدتے وقت خود بھی اس کی تصدیق کرنے کا موقع ملے گا۔ اس طرح جعلی ادویات کی نشاندہی اور ان کی فروخت روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

صحت کے بجٹ میں غیر ملکی مدد صرف 3 فیصد ہے

وفاقی وزیر صحت نے پاکستان کے صحت کے شعبے کے بجٹ اور غیر ملکی امداد سے متعلق بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے صحت کے بجٹ میں غیر ملکی مدد کا حصہ صرف 3 فیصد ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ مالی معاونت ویکسین کی فراہمی کے لیے مل رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو ویکسین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خود خریداری کرنا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ حکومت کو ابھی سے اس حوالے سے منصوبہ بندی شروع کرنی ہوگی تاکہ مستقبل میں ویکسین کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

فلو ویکسین کی قیمت بڑھانے کی اجازت نہیں دی گئی

وفاقی وزیر نے فلو ویکسین کی دستیابی اور قیمتوں کے معاملے پر بھی وضاحت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فلو ویکسین کے چار برانڈ موجود تھے۔ ان میں سے دو کمپنیوں نے قیمت بڑھانے کی درخواست کی تھی، لیکن حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی۔

وزیر صحت کے مطابق اجازت نہ ملنے پر ان دونوں برانڈز نے ویکسین درآمد نہیں کی۔ اس کے باوجود ملک میں فلو ویکسین کی کمی نہیں ہے۔

چین کے تعاون سے بننے والا 182 بستروں کا اسپتال فعال

مصطفیٰ کمال نے ایک اسپتال سے متعلق بھی اہم معلومات فراہم کیں۔ ان کے مطابق چین نے 98 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک اسپتال تعمیر کرکے پاکستان کو تحفے میں دیا تھا۔ تاہم یہ اسپتال کافی عرصے تک غیر فعال رہا، جس کی وجہ سے وہاں موجود طبی مشینری خراب ہونے لگی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اب اس اسپتال کو سرکاری اسپتال کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ انڈس اسپتال نے اسے چلانے کی ذمہ داری حاصل کر لی ہے۔ 182 بستروں پر مشتمل اسپتال نے کام شروع کر دیا ہے اور اب اسے مستقل طور پر فعال رکھا جائے گا۔

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ جعلی ادویات کے خلاف کارروائی، دوا کی بار کوڈ کے ذریعے تصدیق اور اسپتالوں کی فعالیت صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے اہم اقدامات ہیں۔ نئے نظام کے شروع ہونے کے بعد شہریوں کو دوا خریدتے وقت اس کی اصلیت جانچنے کی سہولت مل سکے گی۔