پنجاب کی مختلف مارکیٹوں میں مبینہ جعلی فلو ویکسین کی سپلائی کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد محکمہ صحت پنجاب نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو آگاہ کر دیا ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فلو سے بچاؤ کی ویکسین خریدتے وقت احتیاط کریں اور صرف مستند و لائسنس یافتہ فارمیسیوں سے رجوع کریں۔
فلو ویکسین موسمی انفلوئنزا سے بچاؤ کی اہم طبی سہولت ہے، اس لیے اس کی اصلیت، معیار اور محفوظ ذخیرہ کرنا نہایت اہم ہے۔ جعلی یا غیر معیاری ویکسین کے استعمال سے مریضوں کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
لاہور میں کارروائی اور مشتبہ ویکسین کی ضبطی
ڈریپ ذرائع سے منسوب معلومات کے مطابق خفیہ اطلاع پر لاہور کی مارکیٹ میں کارروائی کی گئی، جس کے دوران جعلی قرار دی جانے والی فلو ویکسین کی بڑی مقدار قبضے میں لے لی گئی۔
خبر میں بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی کے دوران دو افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کی گئی۔ حکام کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی ویکسین کی سپلائی کے ذرائع کا پتا لگانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
معروف کمپنی کے نام سے ویکسین کی پیکنگ
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق مشتبہ ویکسین معروف ملٹی نیشنل کمپنی ایبٹ فارما کے نام سے تیار کردہ ظاہر کی گئی تھی، جبکہ اس کے پیکٹ پر ’’ایبٹ فارما انڈیا‘‘ کا پتا درج تھا۔
تاہم صرف پیکنگ پر درج نام یا پتے کی بنیاد پر کسی مصنوعات کی اصلیت ثابت نہیں ہوتی۔ صارفین کو ویکسین کی رجسٹریشن، پیکنگ، بیچ نمبر اور مستند سپلائی چین کی تصدیق کرنی چاہیے۔ اس معاملے میں حتمی نتائج متعلقہ حکام کی جانچ اور تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکتے ہیں۔
دیگر مارکیٹوں تک سپلائی کا خدشہ
ذرائع کے مطابق مشتبہ ویکسین پنجاب کی دیگر مارکیٹوں میں بھی سپلائی کی جا چکی ہے۔ اسی تناظر میں ڈریپ کی جانب سے صوبے بھر کے لیے ریپڈ الرٹ جاری کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اگر ایسی مصنوعات مختلف علاقوں میں پہنچ چکی ہوں تو ان کی شناخت اور فروخت روکنے کے لیے فارمیسیوں، تقسیم کاروں اور صحت کے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ اہم ہو جاتا ہے۔
شہری ویکسین خریدتے وقت کیا کریں؟
شہریوں کو چاہیے کہ فلو ویکسین صرف مجاز فارمیسی یا مستند طبی مرکز سے حاصل کریں۔ ویکسین کی پیکنگ، میعادِ استعمال اور دیگر شناختی تفصیلات دیکھیں، جبکہ مشتبہ مصنوعات کی صورت میں فارماسسٹ یا متعلقہ صحت حکام سے رہنمائی لیں۔
ویکسین لگوانے سے پہلے مستند طبی ماہر سے مشورہ کرنا بھی مناسب ہے، خصوصاً اگر مریض کو پہلے سے کوئی بیماری یا دوا سے الرجی ہو۔
نوٹ: گرفتاریوں، ضبطی اور مبینہ جعلی ویکسین سے متعلق تفصیلات فراہم کردہ رپورٹ اور ذرائع سے منسوب ہیں۔ حتمی نتیجے کے لیے ڈریپ یا متعلقہ حکام کے باضابطہ نوٹس کو ترجیح دی جائے۔






