مچھلی کا تیل دنیا بھر میں استعمال ہونے والے عام غذائی سپلیمنٹس میں شامل ہے۔ اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں، جو جسم کی صحت کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ جو افراد مچھلی کھانا پسند نہیں کرتے، وہ ان غذائی اجزا کے حصول کے لیے مچھلی کے تیل کے کیپسول استعمال کرتے ہیں۔
مچھلی کے تیل میں اومیگا تھری کے علاوہ وٹامن اے اور وٹامن ڈی بھی موجود ہو سکتے ہیں۔ یہ دونوں وٹامنز جسم کے مختلف افعال کے لیے ضروری ہیں۔ عام طور پر لوگ مچھلی کے تیل کو دل اور دماغ کی صحت بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کے ممکنہ فوائد صرف ان اعضا تک محدود نہیں۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق مچھلی کا تیل جوڑوں کے درد، سوجن اور اکڑن میں کمی لانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر جوڑوں کے ایسے امراض میں اس کے استعمال پر تحقیق کی گئی ہے جن میں جسم کے مدافعتی نظام کی خرابی کے باعث سوزش پیدا ہوتی ہے۔
مچھلی کا تیل جوڑوں کے درد میں کیسے مدد دیتا ہے؟
جوڑوں کے بعض امراض میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے اپنے ہی صحت مند خلیات پر حملہ کرنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جوڑوں میں سوزش، درد اور اکڑن پیدا ہو سکتی ہے۔ بعض مریضوں کو روزمرہ کے کام کرنے اور چلنے پھرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مچھلی کے تیل میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز جسم میں سوزش کے عمل کو کم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جب سوزش میں کمی آتی ہے تو جوڑوں کے درد اور اکڑن کی شدت بھی کم ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین جوڑوں کی صحت کے حوالے سے اومیگا تھری کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لیتے رہے ہیں۔
تحقیق میں جوڑوں کی تکلیف کم ہونے کے شواہد ملے
ایک تحقیق میں جائزہ لیا گیا کہ مچھلی کے تیل کے استعمال سے جوڑوں کے امراض میں مبتلا افراد کو کتنا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس تحقیق میں سامنے آنے والے نتائج کے مطابق اومیگا تھری کے استعمال سے بعض مریضوں میں دائمی درد کی شدت کم ہوئی۔
تحقیق سے یہ اشارہ بھی ملا کہ مچھلی کا تیل جسم میں ورم کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ چونکہ جوڑوں کے درد کی ایک بڑی وجہ سوزش ہوتی ہے، اس لیے اس کے کم ہونے سے مریضوں کو کچھ راحت مل سکتی ہے۔
2021 کی تحقیق میں کیا سامنے آیا؟
2021 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں مچھلی کے تیل اور دیگر غذائی سپلیمنٹس کے جوڑوں کی صحت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اس مقصد کے لیے تقریباً 70 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا۔
اس تجزیے میں مچھلی کے تیل کے استعمال سے جوڑوں کے درد اور اکڑن میں کمی کے شواہد سامنے آئے۔ بعض نتائج کے مطابق اس کے استعمال سے مریضوں کے جسم میں ادویات کے اثرات کے حوالے سے بھی بہتری دیکھی گئی۔
ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز جوڑوں کے بعض مسائل میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم ہر شخص میں ان کے اثرات ایک جیسے نہیں ہوتے اور مزید تحقیق کی بھی ضرورت ہے۔
کیا مچھلی کے تیل کے کیپسول علاج کا متبادل ہیں؟
مچھلی کے تیل کے ممکنہ فوائد کے باوجود اسے جوڑوں کے امراض کا مکمل علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔ جوڑوں میں مسلسل درد، سوجن یا اکڑن کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
اس کے علاوہ مچھلی کے تیل کے کیپسول استعمال کرنے سے پہلے بھی طبی مشورہ لینا بہتر ہے، خاص طور پر اگر کوئی شخص پہلے سے ادویات استعمال کر رہا ہو۔ سپلیمنٹ کی مقدار اور ضرورت کا فیصلہ صحت کی صورتحال کے مطابق کیا جانا چاہیے۔
مجموعی طور پر مچھلی کے تیل میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل، دماغ اور جوڑوں کی صحت کے لیے ممکنہ فوائد رکھتے ہیں۔ تحقیق میں جوڑوں کے درد اور سوزش میں کمی کے حوصلہ افزا شواہد سامنے آئے ہیں، لیکن اسے ڈاکٹر کے تجویز کردہ علاج کا متبادل نہیں بنانا چاہیے۔






