بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں بھارتی دفاعی حکمت عملی اور مودی حکومت کے اقدامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سرحدی صورتحال سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس اور سیٹلائٹ تصاویر نے دونوں ممالک کے درمیان طاقت کے توازن اور بھارتی فوج کی تیاریوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
الجزیرہ اور برطانوی خبر رساں ادارے سے منسوب رپورٹ کے مطابق سرحدی علاقوں میں چینی سرگرمیوں اور پیش قدمی سے متعلق شواہد سامنے آئے ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر میں بعض مقامات پر چینی موجودگی اور تعمیراتی سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے بعد بھارتی سرحدی نگرانی اور دفاعی انتظامات کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
رپورٹس میں اس صورتحال کو بھارت کے لیے ایک اہم دفاعی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ چین کے ساتھ سرحدی تنازع طویل عرصے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ بنا ہوا ہے۔ سرحدی علاقوں میں فوجی نقل و حرکت، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور نگرانی کے نظام کو دونوں ممالک اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔
ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں سنگین صورت اختیار کرچکی ہیں۔ مشرقی لداخ میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت اور چین کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا تھا۔ اس واقعے نے بھارتی فوج کی سرحدی تیاریوں اور چین کے مقابلے میں دفاعی صلاحیت سے متعلق بحث کو مزید شدت دی تھی۔
حالیہ رپورٹس کے تناظر میں مودی حکومت کی دفاعی پالیسی پر تنقید کی جا رہی ہے اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ سرحدی علاقوں میں چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا مؤثر جواب دینے کے لیے بھارت نے کس حد تک تیاری کی ہے۔ ناقدین کے نزدیک سرحدی نگرانی، فوجی رسد اور دفاعی انفرااسٹرکچر کی مضبوطی اس معاملے میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع کا مستقل حل تاحال سامنے نہیں آسکا۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور فوجی سطح پر رابطوں کے باوجود سرحدی علاقوں میں صورتحال حساس رہتی ہے۔ ایسے میں نئی رپورٹس نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال نمایاں کردیا ہے کہ آیا بھارتی حکومت اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمت عملی پر عمل پیرا ہے یا نہیں۔
نوٹ: سیٹلائٹ تصاویر اور سرحدی پیش رفت سے متعلق مخصوص دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔






