تازہ ترین
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیںدل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیں
دنیا

ایران مشرق وسطیٰ کا غنڈہ، مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور مسلسل رابطے میں ہے: ٹرمپ

ایران

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے ساتھ مذاکرات کی صورتحال کے بارے میں سوال کیا گیا۔ اس پر امریکی صدر نے کہا کہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے اور رابطے جاری ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اس معاملے میں جلد بازی کی ضرورت نہیں۔

ایران کے ساتھ جاری جنگ کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ یہ روایتی نوعیت کی جنگ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کے جوہری ہتھیار کے خاتمے کے لیے بھاری رقم خرچ کی اور یہ مقصد حاصل کرلیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران جنگ پر امریکی ٹیکس دہندگان کے زیادہ پیسے خرچ نہیں ہورہے۔

فلوریڈا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی مؤقف کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا ہے اور واشنگٹن نے جنگ شروع نہیں کی۔ ان کے بقول ایران 1979 سے امریکا کے خلاف جنگ کر رہا ہے۔

امریکی صدر نے ایران کو مشرق وسطیٰ کا ’’غنڈہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا وینزویلا سے ایران جنگ پر خرچ ہونے والی رقم کے مقابلے میں تقریباً دس گنا زیادہ کما چکا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے اب جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل گزر رہا ہے۔

ٹرمپ نے ایرانی قیادت کی مالی مشکلات سے متعلق بھی دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی قیادت اپنی فوج کو تنخواہیں دینے کے قابل نہیں رہی۔ امریکی صدر نے ایک بار پھر مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکا سے بات کرنا چاہتا ہے اور دونوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔

قطری ثالثوں کی تہران میں ایرانی حکام سے بات چیت

دوسری جانب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکی تجویز پر امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے قطر کے ثالثوں اور ایرانی حکام کے درمیان تہران میں طویل بات چیت ہوئی ہے۔ اس پیش رفت کو سفارتی رابطوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مذاکرات کی بحالی، ممکنہ شرائط اور آئندہ لائحہ عمل سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

قطر اس سے قبل بھی خطے کے تنازعات میں ثالثی اور سفارتی رابطوں کے لیے کردار ادا کرتا رہا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق تہران میں ہونے والی بات چیت کا مقصد امریکی تجویز کی روشنی میں مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

ٹرمپ کے بیانات اور قطری ثالثوں کے ایرانی حکام سے رابطوں کی اطلاعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے اور سفارتی حل کے امکانات پر توجہ مرکوز ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی باضابطہ بحالی یا کسی معاہدے پر اتفاق کی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔