تازہ ترین
کراچی جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں، 8 ماہ میں 51 ہزار سے زائد وارداتیں، 456 افراد قتلسندھ کے تمام نجی اسکولوں کی گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈرز پر پابندی عائدسندھ بھر میں 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹواٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کی تیاری، صارفین اب پروفائل پر کور فوٹو بھی لگا سکیں گےامریکہ اور ایران اسلام آباد معاہدے پر واپس آئیں، خلیج کو بڑی طاقتوں کے تنازعے کا میدان نہیں بننا چاہیے: چینی صدربحری ناکہ بندی کے خاتمے اور مطالبات پورے ہونے تک امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، ایرانبلاول بھٹو کو وزیراعظم بننے کی دو بار پیشکش ہوئی، قمر زمان کائرہ کا اہم انکشافڈیجیٹل اثاثوں کو مالیاتی نظام میں شامل کیا جائے، وزیر خزانہکراچی جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں، 8 ماہ میں 51 ہزار سے زائد وارداتیں، 456 افراد قتلسندھ کے تمام نجی اسکولوں کی گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈرز پر پابندی عائدسندھ بھر میں 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹواٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کی تیاری، صارفین اب پروفائل پر کور فوٹو بھی لگا سکیں گےامریکہ اور ایران اسلام آباد معاہدے پر واپس آئیں، خلیج کو بڑی طاقتوں کے تنازعے کا میدان نہیں بننا چاہیے: چینی صدربحری ناکہ بندی کے خاتمے اور مطالبات پورے ہونے تک امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، ایرانبلاول بھٹو کو وزیراعظم بننے کی دو بار پیشکش ہوئی، قمر زمان کائرہ کا اہم انکشافڈیجیٹل اثاثوں کو مالیاتی نظام میں شامل کیا جائے، وزیر خزانہ
پاکستان

پاکستان میں دہشت گردی کے سہولت کاروں میں خیبرپختونخوا کی ایک نااہل حکومت بھی شامل تھی، ڈی جی آئی ایس پی آر

افغانستان دہشت گردوں

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کی واضح حکمت عملی موجود ہے، افغانستان میں دہشت گردوں کی قیادت، تربیتی کیمپ اور لانچ پیڈز موجود ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک اہم انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک واضح اور اثر انگیز حکمت عملی موجود ہے۔ پاکستان کے اندر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ اس حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری ذہنیت بھارت کی طرح بلکل نہیں ہے کہ تمام داخلی مسائل کا ملبہ بیرونی عوامل پر ڈال دیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ پاکستان میں ہونے والی تمام تر دہشت گردی صرف افغانستان کی وجہ سے ہے، کیونکہ ایسے اندرونی مسائل بھی موجود ہیں، جنہیں ہمیں اپنے طور پر سنبھالنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان وہ بنیادی اڈہ ہے، جہاں سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی اعلیٰ قیادت، تربیتی کیمپ اور لانچ پیڈز بدستور موجود ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں دہشت گردی کے سہولت کاروں میں خیبرپختونخوا کی ایک نااہل اور لاتعلق حکومت بھی شامل تھی۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں کسی بڑے ملٹری آپریشن کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر ادارے باہمی تعاون سے روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز انجام دے رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کا جو بے مثال تجربہ پاکستان اور اس کی مسلح افواج کے پاس ہے، وہ دنیا کے کسی دوسرے ملک یا فوج کے پاس نہیں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے لوگوں نے دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ مصائب برداشت کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے غیور اور بہادر عوام پاکستانی معاشرے کا ایک انتہائی خاص حصہ ہیں اور پشتونوں سے بہتر کوئی لوگ نہیں، جو اپنی روایات پر فخر کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام مکمل امن و استحکام کا مطالبہ کرتے ہیں اور وہ اس کے مکمل مستحق بھی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں کوئی عام شخص انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کے خلاف نہیں ہے، بلکہ صرف وہی عناصر ان آپریشنز کی مخالفت کرتے ہیں، جن کا دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ کے پی میں ایک سہولت کار جو انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کر رہا تھا، وہ اب موجود نہیں ہے۔

حکومت کے خاتمے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک سیاسی سوال ہے، جس کا جواب سیاستدان ہی بہتر دے سکتے ہیں، جبکہ حکومت کی تبدیلی تمام تر آئینی اور قانونی ضوابط کے مطابق ہوئی تھی۔

بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گرد اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر بلوچستان کی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی سچی کوششیں کر رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ عناصر ایل پی جی کے ٹرکوں، اسکولوں، اساتذہ، پلوں اور ریلوے لائنوں کو نشانہ بناتے ہیں، یعنی ہر اس چیز پر حملہ کرتے ہیں، جو مقامی آبادی کو روزگار اور معاشی قوت فراہم کر سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں اور وہاں کی مفاد پرست اشرافیہ کے درمیان گٹھ جوڑ ہے، جو وہاں کے عوام کو غریب اور ان پڑھ رکھ کر اپنا سیاسی اثر و رسوخ قائم رکھنا چاہتے ہیں تاکہ محرومی کے بیانیے کو قائم رکھا جا سکے۔ یہ دونوں عناصر بلوچستان کی حقیقی ترقی اور خوشحالی کے سخت مخالف ہیں۔