سندھ میں 5 سال سے کم عمر 50.2 فیصد بچے نشوونما میں کمی کا شکار ہیں، جبکہ صوبے میں 40.7 فیصد بچوں میں غذائی قلت ریکارڈ کی گئی ہے۔
سندھ میں بچوں کی صحت اور غذائیت کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ میں تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں 5 سال سے کم عمر 50.2 فیصد بچے نشوونما میں کمی کا شکار ہیں جبکہ 40.7 فیصد بچوں میں غذائی قلت کی شرح ریکارڈ کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سندھ میں 14.8 فیصد بچے شدید غذائی قلت یعنی کمزور جسمانی ساخت کا شکار ہیں۔
اضلاع کی سطح پر جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ضلع سجاول میں بچوں کی نشوونما متاثر ہونے کی شرح سب سے زیادہ 72.7 فیصد دیکھی گئی ہے۔ ضلع جامشورو میں 72.3 فیصد جبکہ دادو میں 71.5 فیصد بچے عمر کے لحاظ سے چھوٹے قد کا شکار ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ضلع بدین میں بچوں میں غذائی قلت کی شرح 29.7 فیصد، ٹنڈو الہ یار میں 27.5 فیصد، کراچی ڈویژن میں 26.2 فیصد اور تھرپارکر میں 25.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ میں سندھ میں بچوں کی غذائی قلت کے خاتمے کے لیے مؤثر اور ہنگامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ماں اور بچے کی بہتر غذائیت، صحت کی بہترین سہولیات اور صاف پانی کی فراہمی کو حکومت کی اعلیٰ ترجیحات میں شامل کرنے کی فوری سفارش کی گئی ہے۔






