تازہ ترین
کراچی جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں، 8 ماہ میں 51 ہزار سے زائد وارداتیں، 456 افراد قتلسندھ کے تمام نجی اسکولوں کی گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈرز پر پابندی عائدسندھ بھر میں 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹواٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کی تیاری، صارفین اب پروفائل پر کور فوٹو بھی لگا سکیں گےامریکہ اور ایران اسلام آباد معاہدے پر واپس آئیں، خلیج کو بڑی طاقتوں کے تنازعے کا میدان نہیں بننا چاہیے: چینی صدربحری ناکہ بندی کے خاتمے اور مطالبات پورے ہونے تک امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، ایرانبلاول بھٹو کو وزیراعظم بننے کی دو بار پیشکش ہوئی، قمر زمان کائرہ کا اہم انکشافڈیجیٹل اثاثوں کو مالیاتی نظام میں شامل کیا جائے، وزیر خزانہکراچی جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں، 8 ماہ میں 51 ہزار سے زائد وارداتیں، 456 افراد قتلسندھ کے تمام نجی اسکولوں کی گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈرز پر پابندی عائدسندھ بھر میں 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹواٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کی تیاری، صارفین اب پروفائل پر کور فوٹو بھی لگا سکیں گےامریکہ اور ایران اسلام آباد معاہدے پر واپس آئیں، خلیج کو بڑی طاقتوں کے تنازعے کا میدان نہیں بننا چاہیے: چینی صدربحری ناکہ بندی کے خاتمے اور مطالبات پورے ہونے تک امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، ایرانبلاول بھٹو کو وزیراعظم بننے کی دو بار پیشکش ہوئی، قمر زمان کائرہ کا اہم انکشافڈیجیٹل اثاثوں کو مالیاتی نظام میں شامل کیا جائے، وزیر خزانہ
پاکستان

بلاول بھٹو کو وزیراعظم بننے کی دو بار پیشکش ہوئی، قمر زمان کائرہ کا اہم انکشاف

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے انکشاف کیا ہے کہ 2024 کے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ساتھ حکومت سازی کے مذاکرات کے دوران بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم بننے کی پیشکش کی گئی تھی۔

ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ پہلی بار انکار کے باوجود بلاول بھٹو کو دوبارہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کی پیشکش کی گئی۔ اس بار انہیں ڈھائی سال کے لیے وزیراعظم بننے کا کہا گیا تھا۔ تاہم بلاول بھٹو نے دوسری پیشکش بھی قبول نہیں کی۔

قمر زمان کائرہ کے مطابق بلاول بھٹو کا خیال تھا کہ اگر وہ اس تجویز پر رضامند ہو جاتے اور ڈھائی سال کی مدت کو معاہدے کا حصہ بنا دیا جاتا تو نئی حکومت کو پہلے دن سے ہی ڈھائی سالہ حکومت کہا جانے لگتا۔ اس سے حکومت کی ساکھ اور اس کے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی تھی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے بتایا کہ بلاول بھٹو چاہتے تھے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کمزور نہ ہو۔ وہ چاہتے تھے کہ حکومت پوری طاقت کے ساتھ کام کرے اور اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کر سکے۔ اسی لیے انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لیے سیاسی سمجھوتہ کرنے کے بجائے شہباز شریف کی قیادت میں حکومت بنانے کی حمایت کی۔

قمر زمان کائرہ کے مطابق بلاول بھٹو نے شہباز شریف سے کہا تھا کہ وہ ہمارے پانچ سال کے لیے وزیراعظم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو وزیراعظم ضرور بنیں گے، لیکن وہ یہ منصب کسی سیاسی بارگیننگ کے نتیجے میں حاصل نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بلاول بھٹو کی خواہش ہے کہ وہ عوام کے ووٹ لے کر وزیراعظم بنیں۔ بلاول بھٹو عوامی حمایت کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، نہ کہ سیاسی مذاکرات میں کسی پیشکش یا سمجھوتے کے ذریعے۔