ایران نے واضح کیا ہے کہ گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے، جب تک بحری ناکہ بندی ختم اور مطالبات پورے نہیں ہوتے تب تک نہ معاہدہ ہوگا اور نہ آبنائے ہرمز کی سلامتی بحال ہوگی۔
ایران کے ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکہ نے گزشتہ 2 سال میں کوئی سفارتی پیشرفت یا اقدامات نہیں کیے، بلکہ اس نے سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ایران کے لیے بنیادی معیار صرف اور صرف امریکی حکومت کا عملی طرز عمل اور درحقیقت اٹھائے گئے اقدامات ہوں گے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے اور ایران کے مطالبات بلکل واضح اور منطقی ہیں۔ جب تک امریکی بحری مھاصرہ ختم نہیں کیا جاتا اور ایران کے جائز مطالبات مکمل طور پر پورے نہیں ہوتے، نہ تو کوئی معاہدہ طے پائے گا اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا یا محفوظ بنایا جائے گا۔
اسماعیل بقائی نے یہ بھی بتایا کہ ایران کا 7 نکات پر مشتمل وہی پرانا منصوبہ اب بھی برقرار ہے تاہم امن کے قیام کی کوشش میں اسے اب مزید مختصر کر دیا گیا ہے اور اس پر صرف 2 دن کے اندر عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ایران کے حسن نیت پر مبنی نقطہ نظر کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران کے مطالبات تسلیم کر لیے جائیں تو یہ ممکن ہے کہ آبنائے ہرمز میں سلامتی بحال ہو جائے اور مذاکراتی عمل بہت کم وقت میں شروع ہو جائے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اس تمام معاملے کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکی فریق اس عمل کے مستقبل سے متعلق کس طرح آگے بڑھنا چاہتا ہے۔






