افغانستان میں طالبان نے قرنیہ پیوندکاری پر زبانی پابندی عائد کر دی، جس سے ہر سال سیکڑوں افغان شہری بینائی سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو گئے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے قرنیہ پیوندکاری پر پابندی کے فیصلے نے صحت کے شعبے اور طبی ماہرین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
برطانوی جریدے دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے قرنیہ پیوندکاری کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے جراحوں کو اس قسم کے آپریشنز فوری طور پر روکنے کی زبانی ہدایات جاری کی ہیں۔
اس فیصلے کے باعث ہر سال 100 افغان شہری بینائی بچانے والے اس اہم علاج سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ماہر امراض چشم ڈاکٹر نور زمان ہاشم کے مطابق ڈاکٹروں کو ان ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں طالبان حکومت کی جانب سے سخت ترین سزاؤں کا شدید خدشہ ہے۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغان عوام کے لیے صحت کی بنیادی سہولیات تک رسائی کو محدود کرنے کا یہ ایک اور سخت اقدام ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلوں سے افغان عوام کی بنیادی طبی ضروریات، انسانی حقوق اور علاج معالجے تک رسائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔






