تازہ ترین
کراچی جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں، 8 ماہ میں 51 ہزار سے زائد وارداتیں، 456 افراد قتلسندھ کے تمام نجی اسکولوں کی گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈرز پر پابندی عائدسندھ بھر میں 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹواٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کی تیاری، صارفین اب پروفائل پر کور فوٹو بھی لگا سکیں گےامریکہ اور ایران اسلام آباد معاہدے پر واپس آئیں، خلیج کو بڑی طاقتوں کے تنازعے کا میدان نہیں بننا چاہیے: چینی صدربحری ناکہ بندی کے خاتمے اور مطالبات پورے ہونے تک امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، ایرانبلاول بھٹو کو وزیراعظم بننے کی دو بار پیشکش ہوئی، قمر زمان کائرہ کا اہم انکشافڈیجیٹل اثاثوں کو مالیاتی نظام میں شامل کیا جائے، وزیر خزانہکراچی جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں، 8 ماہ میں 51 ہزار سے زائد وارداتیں، 456 افراد قتلسندھ کے تمام نجی اسکولوں کی گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈرز پر پابندی عائدسندھ بھر میں 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹواٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کی تیاری، صارفین اب پروفائل پر کور فوٹو بھی لگا سکیں گےامریکہ اور ایران اسلام آباد معاہدے پر واپس آئیں، خلیج کو بڑی طاقتوں کے تنازعے کا میدان نہیں بننا چاہیے: چینی صدربحری ناکہ بندی کے خاتمے اور مطالبات پورے ہونے تک امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، ایرانبلاول بھٹو کو وزیراعظم بننے کی دو بار پیشکش ہوئی، قمر زمان کائرہ کا اہم انکشافڈیجیٹل اثاثوں کو مالیاتی نظام میں شامل کیا جائے، وزیر خزانہ
دنیا

افغانستان میں قرنیہ پیوندکاری پر پابندی، طبی شعبے میں تشویش

قرنیہ پیوندکاری

افغانستان میں طالبان نے قرنیہ پیوندکاری پر زبانی پابندی عائد کر دی، جس سے ہر سال سیکڑوں افغان شہری بینائی سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو گئے۔

افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے قرنیہ پیوندکاری پر پابندی کے فیصلے نے صحت کے شعبے اور طبی ماہرین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

برطانوی جریدے دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے قرنیہ پیوندکاری کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے جراحوں کو اس قسم کے آپریشنز فوری طور پر روکنے کی زبانی ہدایات جاری کی ہیں۔

اس فیصلے کے باعث ہر سال 100 افغان شہری بینائی بچانے والے اس اہم علاج سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ماہر امراض چشم ڈاکٹر نور زمان ہاشم کے مطابق ڈاکٹروں کو ان ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں طالبان حکومت کی جانب سے سخت ترین سزاؤں کا شدید خدشہ ہے۔

دی ٹیلی گراف کے مطابق اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغان عوام کے لیے صحت کی بنیادی سہولیات تک رسائی کو محدود کرنے کا یہ ایک اور سخت اقدام ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلوں سے افغان عوام کی بنیادی طبی ضروریات، انسانی حقوق اور علاج معالجے تک رسائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔