مودی حکومت کے دور میں بھارت کی صحافت پر سنسرشپ اور ریاستی دباؤ شدید ہو گیا، 21 میڈیا تنظیموں نے نئے پرائیویسی قانون کی منسوخی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
بھارت میں مودی کے دورِ اقتدار میں صحافت شدید پابندیوں، سنسرشپ اور ریاستی دباؤ کی زد میں آ چکی ہے، جس سے صحافتی آزادی سے متعلق عالمی خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
عالمی جریدے دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی 21 بڑی میڈیا تنظیموں نے نئے پرائیویسی قانون کو تحقیقاتی صحافت کے لیے شدید خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے نشاندہی کی ہے کہ مودی حکومت کے دور میں صحافیوں کو قانونی دباؤ، مسلح حملوں اور آن لائن ہراسانی کا سامنا مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن نے بھی اس نئے قانون کو آزادی صحافت کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے یو اے نیوز کے ایک مضمون میں سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ صرف 2 روز کے دوران 43 صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
دوسری جانب رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ کے مطابق عالمی صحافتی آزادی انڈیکس میں بھارت کا 157 واں نمبر ہے، جو ملک میں آزادی صحافت کی ابتر صورتحال اور جمہوری قدروں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔






