کراچی میں جرائم کی مجموعی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی، سرکاری ریکارڈ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران شہر میں 51 ہزار سے زائد جرائم کی وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
کراچی اس وقت جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں ہے اور پولیس ریکارڈ نے شہر کی تشویشناک صورتحال کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال کے 8 ماہ میں کراچی میں مجموعی طور پر 51 ہزار سے زائد جرائم کی وارداتیں پیش آئیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ان 8 ماہ کے دوران مختلف پرتشدد واقعات میں 456 افراد کو قتل کر دیا گیا، جبکہ شہر میں اقدام قتل کے 719 واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
اس کے علاوہ شہر بھر میں زبردستی اغوا کے 2 ہزار 800 سے زائد واقعات درج کیے گئے، جن میں اغوا برائے تاوان کی 28 سنگین وارداتیں بھی شامل ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں سے 372 بچے اغوا کیے گئے۔ شہر میں شہریوں سے لوٹ مار کے دوران ڈکیتی کے 2 ہزار 515 واقعات سامنے آئے ہیں۔
شہریوں کی گاڑیوں کی چوری اور چھینے جانے کی شرح بھی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کے تحت 8 ماہ میں کراچی سے 928 کاریں اور 8 ہزار 574 موٹر سائیکلیں چھینی یا چوری کر لی گئیں، جبکہ 292 دیگر گاڑیاں بھی غائب یا چھین لی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق شہر بھر میں 8 ماہ کے دوران 16 ہزار 292 دیگر وارداتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ممنوعہ آرڈیننس کے تحت 3 ہزار 410 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ اسلحہ آرڈیننس کی خلاف ورزی پر کراچی میں 5 ہزار 152 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔






