تازہ ترین
ایران پر اگلا امریکی حملہ واشنگٹن کو پہلے سے زیادہ مہنگا پڑ سکتا ہے؟ 24 فوجی تنصیبات پر تباہی کے بعد نئے خطرات سامنے آگئےنیتن یاہو کے انتخابی دھاندلی کے دعوؤں کو بڑا دھچکا! اسرائیلی الیکشن چیف کا نتائج برقرار رکھنے کا اعلانکراچی جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں، 8 ماہ میں 51 ہزار سے زائد وارداتیں، 456 افراد قتلسندھ کے تمام نجی اسکولوں کی گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈرز پر پابندی عائدسندھ بھر میں 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹواٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کی تیاری، صارفین اب پروفائل پر کور فوٹو بھی لگا سکیں گےامریکہ اور ایران اسلام آباد معاہدے پر واپس آئیں، خلیج کو بڑی طاقتوں کے تنازعے کا میدان نہیں بننا چاہیے: چینی صدربحری ناکہ بندی کے خاتمے اور مطالبات پورے ہونے تک امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، ایرانایران پر اگلا امریکی حملہ واشنگٹن کو پہلے سے زیادہ مہنگا پڑ سکتا ہے؟ 24 فوجی تنصیبات پر تباہی کے بعد نئے خطرات سامنے آگئےنیتن یاہو کے انتخابی دھاندلی کے دعوؤں کو بڑا دھچکا! اسرائیلی الیکشن چیف کا نتائج برقرار رکھنے کا اعلانکراچی جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں، 8 ماہ میں 51 ہزار سے زائد وارداتیں، 456 افراد قتلسندھ کے تمام نجی اسکولوں کی گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈرز پر پابندی عائدسندھ بھر میں 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹواٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کی تیاری، صارفین اب پروفائل پر کور فوٹو بھی لگا سکیں گےامریکہ اور ایران اسلام آباد معاہدے پر واپس آئیں، خلیج کو بڑی طاقتوں کے تنازعے کا میدان نہیں بننا چاہیے: چینی صدربحری ناکہ بندی کے خاتمے اور مطالبات پورے ہونے تک امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، ایران
دنیا

نیتن یاہو کے انتخابی دھاندلی کے دعوؤں کو بڑا دھچکا! اسرائیلی الیکشن چیف کا نتائج برقرار رکھنے کا اعلان

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت کی جانب سے انتخابی دھاندلی اور غیرملکی مداخلت کے الزامات کے دوران اسرائیل کے اعلیٰ انتخابی حکام نے واضح کردیا ہے کہ حالیہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج برقرار رہیں گے۔

اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی کے سربراہ جسٹس نوعم سولبرگ نے اتوار یکم نومبر کو ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات درست طریقے سے منعقد ہوئے اور ان کے نتائج ووٹروں کی مرضی کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ غیرملکی فنڈنگ کے حوالے سے سامنے آنے والے سنگین شبہات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی، لیکن موجودہ معلومات پورے انتخابی عمل یا نتائج کو غیرمعتبر قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔

الیکشن چیف، اٹارنی جنرل اور شن بیت سربراہ کا مشترکہ مؤقف

جسٹس نوعم سولبرگ نے یہ بیان اسرائیلی اٹارنی جنرل گالی بہاراو میارا اور داخلی سیکیورٹی ادارے شن بیت کے سربراہ ڈیوڈ زینی کی موجودگی میں دیا۔

مرکزی الیکشن کمیٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈین لیونے بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

سولبرگ نے کہا کہ تینوں اعلیٰ حکام انتخابی نتائج کی قانونی حیثیت کے معاملے پر متفق ہیں۔

ان کے مطابق اگر تحقیقات کے دوران غیرملکی فنڈنگ سے متعلق بعض شبہات درست بھی ثابت ہوجائیں تو اس سے انتخابات کے مجموعی نتائج خودبخود کالعدم نہیں ہوں گے۔

’’شبہات صرف شبہات ہیں، نتائج بدلنے کے لیے ٹھوس ثبوت چاہیے‘‘

اسرائیلی الیکشن چیف نے کہا کہ غیرملکی ذرائع سے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کے لیے رقوم فراہم کیے جانے کے سنگین شبہات سامنے آئے ہیں۔

ان کے مطابق یہ معاملہ قومی سلامتی سے بھی متعلق ہوسکتا ہے، اسی لیے شن بیت کو تحقیقات کی ہدایت دی گئی۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ محض الزامات یا خفیہ معلومات کی موجودگی انتخابی نتائج کو منسوخ کرنے کے لیے کافی نہیں۔

سولبرگ نے کہا کہ انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت درکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عرب شہریوں کی انتخابی شرکت پر مجموعی طور پر شک نہیں کیا جانا چاہیے۔

قطر اور ترکی سے انتخابی فنڈنگ کے الزامات

اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قطر یا ترکی سے آنے والی مبینہ رقوم کے ذریعے عرب ووٹروں کی انتخابی شرکت پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی گئی۔

نیتن یاہو کی جماعت لیکود نے بھی عرب جماعتوں پر انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ انتخابات میں مداخلت ہوئی۔

تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی حتمی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

قطر اور عرب جماعت راعم دونوں انتخابی مداخلت اور غیرقانونی فنڈنگ کے الزامات مسترد کرچکے ہیں۔

لیکود نے الیکشن چیف کے بیان پر سوال اٹھا دیا

نیتن یاہو کی جماعت لیکود نے جسٹس سولبرگ کے مؤقف پر اعتراض کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر غیرملکی مداخلت کے شبہات سنگین ہیں تو تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے انتخابی نتائج پر ان کے ممکنہ اثرات کو کیسے مسترد کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب نیتن یاہو کے سیاسی حریف گادی آئزنکوٹ نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم کی جماعت انتخابی نتائج کو متنازع بنانے کی کوشش کررہی ہے۔

آئزنکوٹ کے مطابق عوام کے فیصلے کو تسلیم کرنے کے بجائے انتخابی عمل کی ساکھ پر سوال اٹھانا سیاسی بحران کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

یہ دونوں فریقوں کے سیاسی مؤقف ہیں، جبکہ انتخابی نتائج کی قانونی حیثیت کے بارے میں الیکشن کمیٹی نے اپنا واضح مؤقف جاری کردیا ہے۔

ووٹ خریدنے کی الگ تحقیقات بھی جاری

غیرملکی فنڈنگ کے معاملے کے علاوہ اسرائیلی پولیس بعض مقامات پر مبینہ ووٹ خریدنے کے الزامات کی الگ تحقیقات کررہی ہے۔

ان تحقیقات کے دوران چند سیاسی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا، جن کے بارے میں پولیس نے الزام عائد کیا کہ وہ ووٹروں کو رقوم فراہم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

راعم نے ان سرگرمیوں میں جماعت کی شمولیت سے انکار کیا ہے۔

یہ معاملہ شن بیت کی غیرملکی فنڈنگ سے متعلق تحقیقات سے الگ ہے۔

انتخابی نتائج کیا ہیں؟

27 اکتوبر کے انتخابات میں 120 رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ کی نشستوں کی تقسیم کے مطابق:

نیتن یاہو کا حکومتی اتحاد: 53 نشستیں

گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں مخالف اتحاد: 48 نشستیں

عرب جماعتیں: 19 نشستیں

حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔

اس وقت نیتن یاہو کے موجودہ اتحاد کے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں، جبکہ مخالف جماعتوں کو بھی نئی حکومت بنانے کے لیے آپس میں اتفاق کرنا ہوگا۔

انتخابی نتائج صدر ہرزوگ کو کب پیش ہوں گے؟

جسٹس سولبرگ کے مطابق انتخابات کے سرکاری نتائج بدھ 4 نومبر کو صدر اسحاق ہرزوگ کو پیش کیے جائیں گے۔

اس کے بعد صدر مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے تاکہ کسی ایسے رہنما کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپی جاسکے جو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرسکے۔

اس دوران غیرملکی فنڈنگ سے متعلق تحقیقات بھی جاری رہیں گی۔

نیتن یاہو کے لیے اب کیا صورتحال ہے؟

انتخابی حکام کے تازہ بیان نے واضح کردیا ہے کہ غیرملکی مداخلت کے الزامات کی بنیاد پر فی الحال پورے انتخابی نتائج کو منسوخ کرنے کا کوئی جواز سامنے نہیں آیا۔

تاہم تحقیقات کا عمل ختم نہیں ہوا اور اگر کسی فرد یا تنظیم کے خلاف غیرقانونی سرگرمی کے ثبوت ملتے ہیں تو متعلقہ قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔

اسرائیل میں اب اصل سیاسی سوال یہ ہے کہ نیتن یاہو یا ان کے مخالفین میں سے کون پارلیمنٹ میں 61 ارکان کی حمایت حاصل کرسکتا ہے۔

الیکشن چیف کے اعلان کے بعد حکومت سازی کا آئینی عمل اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھے گا، جبکہ غیرملکی فنڈنگ کے الزامات کی تحقیقات الگ جاری رہیں گی۔