واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز اردو) — یکم نومبر 2026: امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کی اطلاعات کے درمیان تازہ امریکی تحقیقات نے ایک اہم سوال کھڑا کردیا ہے: اگر واشنگٹن دوبارہ تہران پر بڑے پیمانے پر حملے کرتا ہے تو کیا اس مرتبہ امریکی فوج کو پہلے سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے؟
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی تازہ تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات، جدید ریڈار، جنگی طیاروں، ہینگروں اور مواصلاتی نظام کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ نقصانات امریکی فوجی منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم چیلنج ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان دوبارہ شدید لڑائی شروع ہونے کا امکان زیرِ بحث ہے۔
امریکی فوجی نقصانات کے تازہ اعداد و شمار
وال اسٹریٹ جرنل کی 31 اکتوبر کی تحقیقات کے مطابق جنگ کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران امریکی فوج کی موجودگی والی 24 تنصیبات میں کم از کم 274 عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئے۔
امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 5 ارب سے 15 ارب ڈالر تک ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس کی الگ تحقیقات میں اگست تک 26 فوجی مقامات پر نقصانات کی نشاندہی کی گئی۔
اے پی کے مطابق ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں سے منسوب 115 سے زیادہ میزائل اور ڈرون حملوں نے امریکی فوجی تنصیبات کو متاثر کیا۔
اکتوبر میں اپ ڈیٹ ہونے والی امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ کے مطابق علاقائی فوجی اڈوں پر کم از کم 15 امریکی طیاروں کو نقصان پہنچا۔
یہ اعداد و شمار الگ الگ تحقیقات سے لیے گئے ہیں، اس لیے انہیں جمع کرکے متاثرہ مقامات کی مجموعی تعداد نہیں بنائی جاسکتی۔
جنگ پر 47 ارب ڈالر خرچ، مزید نقصان کا خدشہ
امریکی محکمہ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق 16 اکتوبر تک ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں پر امریکا کے 47 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوچکے تھے۔
اس رقم میں بڑی مقدار میں استعمال ہونے والے میزائلوں، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی تبدیلی کے اخراجات شامل ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق فوجی اڈوں کی تعمیرِ نو اور تباہ شدہ سازوسامان کی تبدیلی کا بل الگ سے اربوں ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ نئی جنگی کارروائی شروع ہونے کی صورت میں امریکا کو صرف نئے حملوں کے اخراجات ہی نہیں بلکہ پہلے سے متاثرہ فوجی تنصیبات کی مرمت اور حفاظت کا مالی بوجھ بھی برداشت کرنا پڑسکتا ہے۔
ایران نے امریکی دفاعی نظام کی کمزوریاں کیسے ظاہر کیں؟
ایسوسی ایٹڈ پریس کی تحقیقات کے مطابق ایرانی حملوں میں ابتدا میں ایسے نظام متاثر ہوئے جو آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کا سراغ لگانے اور ان کے خلاف دفاع میں مدد دیتے ہیں۔
اس کے بعد متعدد فوجی مقامات پر طیاروں، ہینگروں، گوداموں، مواصلاتی نظام اور فوجیوں کی رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملے امریکی فوجی تنصیبات کے لیے حقیقی خطرہ ثابت ہوئے۔
تاہم اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ امریکا کا پورا فضائی دفاعی نظام ناکام ہوگیا یا ایران آئندہ بھی اسی پیمانے پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت لازماً برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اگلی جنگ میں امریکی نقصان زیادہ کیوں ہوسکتا ہے؟
دفاعی صورتحال کے تجزیے میں تین بڑے خطرات سامنے آتے ہیں۔
پہلا خطرہ: پہلے سے متاثرہ فوجی تنصیبات
گزشتہ حملوں میں متاثر ہونے والی عمارتوں، ریڈار اور دیگر سازوسامان کی مکمل بحالی میں وقت اور بھاری سرمایہ درکار ہوسکتا ہے۔
اگر بعض تنصیبات ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہوئیں تو دوبارہ حملوں کے دوران فوجی کارروائیوں اور حفاظتی انتظامات پر اضافی دباؤ پڑسکتا ہے۔
دوسرا خطرہ: ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی تکرار
گزشتہ لڑائی میں ایران نے مختلف امریکی تنصیبات پر بار بار حملے کیے۔
اگر نئی کشیدگی میں بھی میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو امریکا کو دفاعی میزائلوں، سازوسامان اور بنیادی ڈھانچے کی حفاظت پر مزید اخراجات برداشت کرنا پڑسکتے ہیں۔
تیسرا خطرہ: وسیع علاقائی جنگ
امریکا اور ایران کے درمیان نئی براہِ راست لڑائی مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات، بحری نقل و حرکت اور علاقائی ممالک کی سلامتی کے لیے خطرات بڑھا سکتی ہے۔
ایسی صورتحال میں فوجی اخراجات کے ساتھ توانائی کی قیمتوں اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
یہ تمام امکانات ہیں، کسی آئندہ حملے کے مصدقہ نتائج نہیں۔
امریکا نے بھی دفاعی حکمتِ عملی تبدیل کردی
امریکی فوج گزشتہ حملوں سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے خطے میں اضافی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام بھیجنے اور بعض فوجی اہلکاروں کو نسبتاً غیرمحفوظ تنصیبات سے منتقل کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔
امریکی فوج نے اپنے سازوسامان کی تعیناتی اور دفاعی انتظامات میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔
اس لیے نئی لڑائی میں نقصان کا حجم صرف ایران کی حملہ آور صلاحیت پر نہیں بلکہ امریکی دفاعی تیاری، انٹیلی جنس، فوجی تعیناتی اور جنگ کی مدت پر بھی منحصر ہوگا۔
3 نومبر کے بعد نئے امریکی حملوں کی اطلاعات
وال اسٹریٹ جرنل نے 28 اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکا نے بعض خلیجی ممالک کو 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مختصر لیکن شدید فوجی کارروائی کے امکان سے آگاہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج ممکنہ نئی کارروائیوں کے لیے تیاری کررہی ہیں۔
تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی فوجی کارروائی کی حتمی منظوری کی تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب سفارتی ثالث ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے امکانات بھی تلاش کررہے ہیں۔
اس طرح فوجی تیاریوں اور سفارتی کوششوں کا سلسلہ بیک وقت جاری ہے۔
کیا امریکا کو اس بار زیادہ نقصان ہوگا؟
تازہ امریکی تحقیقات سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
یہ بھی واضح ہے کہ مستقبل میں دوبارہ جنگ شروع ہونے سے امریکی فوجی اہلکاروں، طیاروں، دفاعی نظام اور فوجی اڈوں کو مزید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
لیکن گزشتہ نقصانات کی بنیاد پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ اگلی لڑائی میں امریکی نقصان لازماً پہلے سے زیادہ ہوگا۔
اس کا انحصار ایران کی موجودہ عسکری صلاحیت، امریکا کی نئی دفاعی تیاریوں، حملوں کی شدت، جنگ کے دورانیے اور سفارتی کوششوں کی کامیابی یا ناکامی پر ہوگا۔
نتیجہ یہ ہے کہ ایران کے خلاف نئی امریکی کارروائی واشنگٹن کے لیے ایک اور مہنگی اور خطرناک فوجی مہم بن سکتی ہے۔ گزشتہ جنگ کے 47 ارب ڈالر سے زائد اخراجات اور فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے اربوں ڈالر کے نقصان نے اس خطرے کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔
تاہم نئی جنگ کا فیصلہ، اس کی شدت اور ممکنہ نقصانات ابھی غیر یقینی ہیں۔






