بھارتی مبصر نے انکشاف کیا ہے کہ شیخ مجیب الرحمٰن 1961 سے بھارتی انٹیلیجنس کا اثاثہ تھا، بھارت نے 10 سالہ منصوبے کے تحت پاکستان کو توڑا۔
پاکستان کی تقسیم اور 1971 کے واقعات میں بھارتی کردار سے متعلق نئے اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ بھارتی مبصر اقبال چند ملہوترا نے شیخ مجیب الرحمٰن سے بھارتی اداروں کے خفیہ روابط اور پاکستان توڑنے کی مبینہ سازش پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے انتہائی اہم دعوے کیے ہیں۔
اقبال چند ملہوترا کے مطابق شیخ مجیب الرحمٰن 1961 سے ہی بھارتی انٹیلیجنس بیورو کا ایک فعال اثاثہ تھا اور وہ پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے 10 سالہ منصوبے میں مرکزی اور کلیدی کردار ادا کر رہا تھا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ بھارتی انٹیلیجنس کے سینیئر افسر پی این بینرجی عرف پی این اوجھا نے جعلی نام سے مشرقی پاکستان میں اپنے خفیہ آپریشنز اور سرگرمیاں جاری رکھیں اور اگرتلہ سازش کیس کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مجیب الرحمٰن نے آسام کے وزیراعلیٰ سے باقاعدہ ملاقات کر کے پاکستان سے علیحدگی کے لیے بھارتی فوجی، مالی اور سیاسی مدد طلب کی تھی۔
اقبال چند ملہوترا کا حتمی دعویٰ ہے کہ بھارت نے اسی 10 سالہ منصوبے پر عمل کرتے ہوئے 1971 میں پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔






