چین کے صدر شی جن پنگ نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ خلیج کے خطے کو بڑی طاقتوں کی رقابت کا میدان نہیں بننا چاہیے۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں 2 روز ہ سرکاری دورے پر آئے، عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی اور کہا کہ دنیا اس وقت 100 سال میں نہ دیکھی جانے والی بنیادی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق صدر شی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے خلیجی خطے کو بڑی طاقتوں کی رقابت اور جیو پولیٹیکل تنازعات کا میدان نہیں بننا چاہیے، بلکہ اس خطے میں امن اور استحکام کے لیے تمام فریقوں کی جانب سے مشترکہ تحفظ اور نگہداشت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین ایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ کو روکنے کے لیے مسلسل کوشاں رہا ہے اور خطے کے سیکیورٹی چیلنجز کو حل کرنے کے لیے اپنی دانشمندی اور حل فراہم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔
سلطان ہیثم بن طارق 1978 کے بعد بیجنگ کا دورہ کرنے والے عمان کے پہلے سربراہ مملکت ہیں، جو 2 روز کے دورے پر یکم تاریخ کو چین پہنچے۔
عمانی سرکاری میڈیا کے مطابق سلطان ہیثم نے صدر شی جن پنگ کو بتایا کہ ان کی حکومت مشرق وسطیٰ کے اہم امور پر چین کے مؤقف کی شدید قدر کرتی ہے۔
چین اور عمان نے زور دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کو تنازع کے پرامن خاتمے کے لیے اسلام آباد کی مفاہمت کی یادداشت پر واپس آنا چاہیے اور باہمی بات چیت دوبارہ شروع کرنی چاہیے۔
دونوں ممالک کے 20 نکاتی مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ جہاز رانی کو فوری بحال ہونا چاہیے۔
علاوہ ازیں چین کی وزارت خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے چین کے خصوصی نمائندے ذائی جون رواں ماہ ایران، سعودی عرب اور عمان کا دورہ کریں گے۔






