اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے قومی اسمبلی میں 25 ہزار اور 40 ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کے طریقہ کار کی تفصیلات پیش کر دی ہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق قرعہ اندازی کے عمل میں خصوصی بچوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے، جو کامیاب نمبروں کے اعلان اور اندراج میں حصہ لیتے ہیں۔ اس طریقہ کار کا مقصد قرعہ اندازی میں شفافیت برقرار رکھنا اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانا ہے۔
سات رکنی کمیٹی قرعہ اندازی کی نگرانی کرتی ہے
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کی نگرانی سات رکنی کمیٹی کرتی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق موجودہ طریقہ کار پر عوام کا اعتماد ہے اور اس حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔
قرعہ اندازی میں خصوصی بچوں کی شرکت کو طریقہ کار کا ایک نمایاں پہلو قرار دیا گیا ہے۔ تاہم نگرانی کے انتظامات اور قرعہ اندازی کے تکنیکی مراحل سے متعلق مزید تفصیلات کے لیے اسٹیٹ بینک کا مکمل سرکاری جواب دیکھنا ضروری ہے۔
درآمدی چینی پر 54 ارب روپے سے زائد اخراجات
اسی اجلاس میں وزارت تجارت نے مالی سال 2025-26 کے دوران درآمد کی گئی چینی کی مقدار، قیمت، فروخت اور باقی ذخیرے سے متعلق معلومات بھی قومی اسمبلی میں پیش کیں۔
وزارت کے تحریری جواب کے مطابق 31 اگست 2026 تک درآمدی چینی پر 54 ارب 15 کروڑ 65 لاکھ روپے سے زائد اخراجات آئے۔ اس عرصے میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 6 ہزار 373 میٹرک ٹن چینی درآمد کی گئی، جس کی عالمی منڈی میں قیمت 575.56 امریکی ڈالر فی میٹرک ٹن بتائی گئی۔
جواب کے مطابق درآمد پر عائد 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی بھی ختم کی گئی تھی۔ وزارت تجارت نے واضح کیا کہ چینی درآمد کرنے کا فیصلہ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے کیا تھا، جبکہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کا فیصلہ سازی میں کوئی کردار نہیں تھا۔
کتنی چینی فروخت ہوئی اور کتنا ذخیرہ باقی ہے؟
وزارت تجارت کے مطابق درآمد کی گئی چینی میں سے 1 لاکھ 98 ہزار 668 میٹرک ٹن چینی 168 روپے 24 پیسے فی کلو کے حساب سے فروخت کی جا چکی ہے۔
دوسری جانب 1 لاکھ 8 ہزار 69 میٹرک ٹن چینی ٹی سی پی کے گوداموں میں موجود ہے۔ وزارت کے جواب کے مطابق باقی ذخیرے کی برآمد کے لیے تاحال کوئی ٹینڈر جاری نہیں کیا گیا۔
قومی اسمبلی میں پیش کی گئی یہ تفصیلات پرائز بانڈز کے طریقہ کار اور درآمدی چینی سے متعلق حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتی ہیں۔






