تازہ ترین
لاہور کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہوگئیپیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف، وزیراعظم نے امیر جماعت اسلامی کو ملاقات کی دعوت دے دیکراچی میں فضائی آلودگی میں اضافہ، ماہرین نے شہریوں کو احتیاط کی ہدایت کردیاسرائیل اور امریکہ کے انتخابی نتائج عالمی منظرنامے کو بدل دیں گےاسرائیل میں اہم ترین عام انتخابات کا انعقاد آج ہو رہا ہےاسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں نسل کشی، تشدد اور عصمت دری میں ملوث ہے، اقوام متحدہسعودی اتحاد کا حوثیوں کے 3 بیلسٹک میزائل اور 4 ڈرونز فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰایران نے امریکہ اور یورپ تک مار کرنے والے میزائل تیار کرلیئے، ٹرمپلاہور کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہوگئیپیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف، وزیراعظم نے امیر جماعت اسلامی کو ملاقات کی دعوت دے دیکراچی میں فضائی آلودگی میں اضافہ، ماہرین نے شہریوں کو احتیاط کی ہدایت کردیاسرائیل اور امریکہ کے انتخابی نتائج عالمی منظرنامے کو بدل دیں گےاسرائیل میں اہم ترین عام انتخابات کا انعقاد آج ہو رہا ہےاسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں نسل کشی، تشدد اور عصمت دری میں ملوث ہے، اقوام متحدہسعودی اتحاد کا حوثیوں کے 3 بیلسٹک میزائل اور 4 ڈرونز فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰایران نے امریکہ اور یورپ تک مار کرنے والے میزائل تیار کرلیئے، ٹرمپ
سوشل میڈیا رجحان

متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کے لیے وارننگ، آن لائن احتجاج کی تشہیر پر بھاری جرمانے ہو سکتے ہیں

متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا قوانین

متحدہ عرب امارات میں مقیم اور کام کرنے والے پاکستانیوں کو سوشل میڈیا کے محتاط استعمال کی ہدایت کی گئی ہے۔ خبردار کیا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کی اجازت کے بغیر کسی مظاہرے یا جلوس کی آن لائن تشہیر، تنظیم یا لوگوں کو شرکت کی دعوت دینا سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں افواہوں اور سائبر جرائم سے متعلق وفاقی قانون نمبر 34، سال 2021 کے تحت بعض آن لائن سرگرمیوں پر قید اور بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقامی قوانین کو سمجھیں اور کسی بھی حساس نوعیت کے مواد کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی نوعیت اور قانونی حیثیت کا جائزہ لیں۔

آن لائن احتجاج کی تشہیر پر کیا سزا ہو سکتی ہے؟

فراہم کردہ معلومات کے مطابق قانون کی دفعہ 26 کے تحت انٹرنیٹ، ویب سائٹس یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے متعلقہ اجازت کے بغیر مظاہرے یا جلوس کی تنظیم، تشہیر یا لوگوں کو شرکت کی دعوت دینے پر قید، 2 لاکھ سے 10 لاکھ درہم تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

اس نوعیت کے معاملات میں کسی پوسٹر کو دوبارہ شیئر کرنا، احتجاج کا وقت اور مقام پھیلانا یا دوسروں کو شرکت کی دعوت دینا بھی قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم کسی مخصوص سرگرمی پر قانون کا اطلاق اس کے حقائق اور متعلقہ قانونی دفعات پر منحصر ہوگا۔

ریاستی نظام کے خلاف آن لائن مواد

فراہم کردہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیجیٹل ذرائع سے ایسا مواد شائع یا آگے بھیجنا جس کا مقصد حکومت کا نظام گرانے، آئین یا قوانین معطل کرنے یا اقتدار پر قبضے کے لیے اکسانا ہو، سنگین جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں اس نوعیت کے جرم کے لیے عمر قید کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ چونکہ قانونی نتائج کا تعین مخصوص دفعات اور حالات کے مطابق ہوتا ہے، اس لیے ان سزاؤں اور دفعہ 71 سے متعلق تفصیلات کی سرکاری قانونی متن سے تصدیق ضروری ہے۔

پاکستانی شہری کن باتوں کا خیال رکھیں؟

متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق غیر مصدقہ پیغامات، پوسٹرز اور ویڈیوز بلا سوچے سمجھے آگے نہ بھیجیں۔ سوشل میڈیا پر کسی بھی مواد کی تشہیر سے پہلے متعلقہ حکام کی ہدایات اور مقامی قوانین کا جائزہ لینا بہتر ہے۔

ملازمت، رہائش یا ذاتی شکایات کے حل کے لیے سوشل میڈیا پر حساس مہم چلانے کے بجائے متعلقہ اداروں، آجر یا پاکستانی سفارت خانے اور قونصل خانے سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

بیرون ملک رہتے ہوئے مقامی قوانین کی پابندی نہ صرف قانونی مسائل سے بچنے بلکہ روزگار، ویزے اور مستقبل کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔