اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نسل کشی، تشدد اور عصمت دریوں جیسے انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کیا اور غزہ میں جنگ بندی کے باوجود نسل کشی جاری رکھی۔
اقوام متحدہ کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے آزاد عالمی انکوائری کمیشن کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ میں 7 اکتوبر 2023 سے لے کر ستمبر کے آخر تک ریاستی عناصر کی جانب سے کیے جانے والے جانی و مالی نقصانات کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آباد کاروں کی تشدد آمیز کارروائیوں نے شہریوں پر منظم حملے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے کے رہائشیوں کو اجتماعی سزا دینے کی نیت سے یہ اقدامات کیے۔
رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے میں فضائی حملوں سے ہونے والی اموات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جہاں اکتوبر 2023 سے ستمبر 2026 کے درمیان 254 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔
کمیشن کے چیئرمین سری نواسن مرلی دھر کا کہنا ہے کہ فلسطینی شہریوں کا ارادتاً قتل اور گھروں کی تباہی فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ غزہ میں جنگ کے بعد سے اب تک 74 ہزار 500 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ آبادی کا بڑا حصہ بے گھر ہو چکا ہے۔
جنیوا میں اسرائیل کے مشن نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے اسرائیل کو بدنام کرنے کی پروپیگنڈا مہم قرار دیا ہے۔
دریں اثنا اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ولکر ترک نے الخلیل میں اسرائیلی کریک ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جبری نقل مکانی اور نسلی تطسیر کے سنجیدہ خدشات پیدا ہوتے ہیں۔






