تازہ ترین
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیںدل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیں
سوشل میڈیا رجحان

آصفہ بھٹو زرداری کا بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز کا دورہ، خواتین کی مالی آگاہی اور شکایات کے نظام کو بہتر بنانے کی ہدایت

آصفہ بھٹو زرداری کا بی آئی ایس پی دورہ

اسلام آباد: خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پروگرام کے تحت جاری مختلف اقدامات اور منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں مستحق خاندانوں کی معاونت، خواتین کو بااختیار بنانے اور پروگرام کی سہولیات کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق امور زیرِ غور آئے۔

آصفہ بھٹو زرداری نے بی آئی ایس پی کی جانب سے خواتین کو مالی معاونت فراہم کرنے اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے پروگرام کے مختلف منصوبوں کو مزید وسعت دینے کے لیے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

مالی آگاہی اور شکایات کے نظام کو مؤثر بنانے پر زور

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری نے مالی معاملات سے متعلق عوامی آگاہی اور تعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستحق افراد کو نہ صرف مالی معاونت فراہم کرنا اہم ہے بلکہ انہیں مالی سہولیات کے درست استعمال اور دستیاب خدمات کے بارے میں آگاہ کرنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بی آئی ایس پی کے شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ مستحق افراد کو درپیش مسائل کا بروقت حل ممکن ہو سکے۔

آصفہ بھٹو زرداری نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی معاونت حاصل کی جائے تاکہ پروگرام کی سہولیات زیادہ مؤثر انداز میں اہل مستحقین تک پہنچائی جا سکیں۔ اس اقدام سے بالخصوص ان خاندانوں تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے جنہیں سرکاری خدمات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

بی آئی ایس پی کے معاشی اثرات سے متعلق اہم اعدادوشمار

اجلاس کے دوران بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن روبینہ خالد نے پروگرام کے معاشی اثرات سے متعلق اعدادوشمار پیش کیے۔ ان کے مطابق پروگرام کے تحت خرچ کیا جانے والا ہر ایک روپیہ حقیقی آمدن کی مد میں 2 روپے 34 پیسے پیدا کرتا ہے۔

روبینہ خالد نے بتایا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیوں کا قومی خزانے میں سالانہ حصہ تقریباً 174 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ ان اعدادوشمار کے ذریعے پروگرام کے مالی معاونت سے آگے بڑھ کر معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کو بھی اجاگر کیا گیا۔

بینظیر ہنرمند پروگرام میں 50 ہزار سے زائد افراد کی رجسٹریشن

چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے اجلاس کو بینظیر ہنرمند پروگرام کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت اب تک 50 ہزار سے زائد افراد فنی تربیت کے لیے رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔

پروگرام میں مختلف شعبوں سے متعلق تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، مہمان نوازی اور تعمیرات شامل ہیں۔ اس تربیت کا مقصد شرکا کو عملی مہارتیں فراہم کرنا ہے تاکہ وہ روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں اور اپنی آمدن میں اضافہ کر سکیں۔

بی آئی ایس پی کے تحت جاری یہ اقدامات مالی معاونت کے ساتھ ساتھ ہنرمندی، آگاہی اور خواتین کی معاشی شمولیت کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ اجلاس میں ان منصوبوں کو مزید مؤثر بنانے اور مستحق خاندانوں تک سہولیات کی رسائی بہتر کرنے پر توجہ دی گئی۔