امریکی وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی کوششیں انتہائی کامیاب ثابت ہو رہی ہیں، تہران کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سی این بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی پالیسی کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور ملک کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران کو ڈالر حاصل کرنے میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کی مالی معاونت کرنے کی ایرانی صلاحیت بھی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
بیسنٹ کے مطابق ایرانی حکام اور پاسداران انقلاب کے عہدیدار بھی ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور معاشی تباہی کے خدشات پر کھل کر بات کر رہے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ ایران کی جانب سے مالی امداد میں کمی کا براہ راست اثر تہران کے حلیف گروہوں پر پڑ رہا ہے، جن میں حوثی، حماس اور حزب اللہ شامل ہیں۔
اس سے قبل پیر کے روز ایران انٹرنیشنل کو انٹرویو دیتے ہوئے اسکاٹ بیسنٹ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ سمندر میں اس وقت ایران کا کوئی بھی تیل بردار جہاز موجود نہیں ہے اور تاریخ میں غالباً یہ پہلا موقع ہے جب تیل کی دریافت کے بعد ایرانی تیل کی کوئی کھیپ سمندر میں نظر نہیں آ رہی۔






