اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
عرب نیوز کو دیے گئے انٹرویو کے دوران اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے یمن میں سرگرم حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور شہری بنیادی ڈھانچوں پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عالمی انسانی قانون کے تحت کسی بھی شہری ہوائی اڈے پر حملہ کرنا ممنوع ہے اور ایسے حملے جنگی جرائم کے سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
وولکر ترک نے انکشاف کیا کہ حوثیوں نے اقوام متحدہ کے 71 کارکنوں کو قید کر رکھا ہے، جن میں سے 8 کا تعلق ان کے اپنے دفتر سے ہے۔ انہوں نے ان تمام ملازمین کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے 5 ہوائی اڈوں پر حوثی حملوں کے نتیجے میں 22 افراد جاں بحق اور 350 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ نئی حکومت کے قیام کے بعد جنگی پالیسی پر نظرثانی کرے اور عالمی قوانین کی پابندی یقینی بنائے۔
غزہ، لبنان اور شام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے فلسطینیوں کی ہلاکتوں کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا اور بتایا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔






