اسرائیل کے حالیہ عام انتخابات کے نتائج کے بعد وزیراعظم نیتن یاہو کے نگراں وزیراعظم کے طور پر برقرار رہنے کا قوی امکان ہے، کیونکہ ان کے دائیں بازو کے اتحاد کو توقع سے بہتر حمایت ملی ہے۔
اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد پہلے عام انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 77.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو دو دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔
رائٹرز کے مطابق 86 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر تین بڑے نشریاتی اداروں نے پیش گوئی کی ہے کہ نیتن یاہو کے دائیں بازو، انتہائی دائیں بازو اور الٹرا آرتھوڈوکس جماعتوں کے اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں ملیں گی، جبکہ حریف گادی آئزنکوٹ کے اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
عرب اسرائیلیوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں کو ریکارڈ 19 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ پارلیمنٹ میں واضح اکثریت نہ ہونے کے باوجود نیتن یاہو نگراں وزیراعظم کے طور پر کام جاری رکھیں گے اور ماہرین کے مطابق وہ اگلے سال تک اس منصب پر فائز رہ سکتے ہیں، جس دوران ان کے پاس ایران کے خلاف جنگی فیصلوں سمیت اہم اختیارات برقرار رہیں گے۔
انتخابی نتائج کے بعد نیتن یاہو نے ایک مضبوط دائیں بازو کی حکومت بنانے پر زور دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنما آئزنکوٹ نے خبردار کیا ہے کہ نیتن یاہو سلامتی کے معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
سیاسی منظر نامے میں دائیں بازو کی جانب اس فیصلہ کن جھکاؤ نے اسرائیل کے روایتی مرکز سے بائیں بازو کے دھڑے کو سکڑ کر رہ جانے پر مجبور کر دیا ہے، جبکہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت پر تمام بڑی یہودی جماعتیں متفق ہیں۔
اس جنگ کے نتیجے میں غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور 74 ہزار فلسطینیوں کی ہلاکت کے باعث اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید سفارتی تنہائی کا سامنا ہے، جبکہ نیتن یاہو کو عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے جنگی جرائم اور ملکی سطح پر بدعنوانی کے مقدمات کا بھی سامنا ہے۔






