تازہ ترین
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیںدل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیں
دلچسپ و عجیب

کیا خلائی مخلوق واقعی موجود ہے؟ ناسا کے سابق خلانورد نے خطرے کی گھنٹی بجادی

 ناسا کے سابق امریکی خلانورد ونسٹن اسکاٹ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ انسانوں کے علاوہ بھی کائنات میں ذہین مخلوق موجود ہو سکتی ہے۔ اربوں سیاروں پر مشتمل اس وسیع کائنات میں صرف زمین پر زندگی کا ہونا ممکن نہیں لگتا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ونسٹن اسکاٹ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وہ 1990 کی دہائی میں دو خلائی مشنز کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کائنات میں بے شمار سیارے موجود ہیں اور ان میں سے کچھ پر زندگی کے لیے زمین جیسے حالات بھی ہو سکتے ہیں۔

سابق خلانورد کے مطابق یہ ممکن ہے کہ بعض سیاروں پر زندگی نے جنم لیا ہو اور وہاں ذہین مخلوق بھی موجود ہو۔ ان کا خیال ہے کہ کائنات اتنی وسیع ہے کہ وہاں صرف انسانوں کا آباد ہونا ضروری نہیں۔

کیا خلائی مخلوق زمین پر بھی آ چکی ہے؟

ونسٹن اسکاٹ نے اپنے بیان میں ایک اہم فرق بھی واضح کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کائنات میں کہیں زندگی کا موجود ہونا ایک الگ بات ہے، جبکہ خلائی مخلوق کا زمین پر آنا بالکل مختلف معاملہ ہے۔

انہوں نے زمین پر خلائی مخلوق کی آمد کے حوالے سے کوئی حتمی دعویٰ نہیں کیا۔ اس لیے ان کے بیان کو اس بات کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا کہ کوئی خلائی مخلوق زمین کا دورہ کر چکی ہے۔

پینٹاگون کی خفیہ دستاویزات بھی زیر بحث

سابق خلانورد کے یہ خیالات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے نامعلوم اڑن اشیا (UFOs) سے متعلق نئی خفیہ دستاویزات جاری کی ہیں۔

ان رپورٹس میں بعض پراسرار مخلوقات اور امریکا میں ایک نامعلوم فضائی شے کی نگرانی سے متعلق دعوے بھی شامل ہیں۔ ان دستاویزات کے سامنے آنے کے بعد خلائی مخلوق اور نامعلوم فضائی اشیا کے بارے میں بحث مزید توجہ حاصل کر رہی ہے۔

کیا خلائی مخلوق کی موجودگی کا کوئی سائنسی ثبوت ہے؟

کائنات میں زندگی کی تلاش کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ سائنس دان مختلف سیاروں اور نظامِ شمسی سے باہر موجود دنیاؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں زندگی کے لیے موزوں حالات موجود ہیں یا نہیں۔

تاہم اب تک خلائی مخلوق یا زمین سے باہر ذہین زندگی کی موجودگی کا کوئی مستند سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ ونسٹن اسکاٹ کا بیان بھی ان کے ذاتی نظریے اور امکان سے متعلق رائے پر مبنی ہے۔

ماہرین کے لیے اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا زمین کے علاوہ بھی کسی سیارے پر زندگی موجود ہے؟ اس سوال کا حتمی جواب ابھی سامنے نہیں آیا۔ مستقبل میں ہونے والی سائنسی تحقیق ہی اس حوالے سے مزید معلومات فراہم کر سکتی ہے۔