امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار سست ہونے کے خدشات پر امریکہ، یورپ اور ایشیا میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کو کھربوں ڈالر کا نقصان ہوگیا۔
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے فوراً بعد عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ٹیک سیکٹر کے شیئرز بری طرح بیٹھ گئے۔
کئی ڈیموکریٹ امیدواروں نے الیکشن مہم میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار پیشرفت کو سست کرنے کے وعدے کیے تھے، جس کے بعد اس شعبے پر کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری کی منافع بخش ہونے کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ڈاؤ جونز کے اعداد و شمار کے مطابق ٹیکنالوجی شیئرز سے سجے نیسڈیک انڈیکس میں 5.5 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے مارکیٹ ویلیو کو 2.5 ہزار ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔
امریکہ کے دیگر اہم اسٹاک انڈیکس کے لیے بھی 2025 کے بعد یہ بدترین دن ثابت ہوا۔ اس گراوٹ کے اثرات ایشیا اور یورپ کی مارکیٹوں تک بھی پھیلے۔
آج صبح ایشیا میں کمپیوٹر چپس اور ای آئی آلات بنانے والی کمپنیوں کے شیئرز تیزی سے گر گئے، جبکہ یورپ میں چپ بنانے والی کمپنی انفیین کے شیئرز 8.5 فیصد اور اے ایس ایم ایل کے شیئرز 6.5 فیصد تک نیچے آ گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹاک مارکیٹ میں اس بڑی گراوٹ کا ملبہ اپنے سیاسی مخالفین پر ڈال دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ الیکشن کے نتائج کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ کو تاریخ کے بدترین دنوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہ ایک افسوسناک بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی سے مارکیٹ کریش ہوئی ہے، تاہم ہم جلد ہی پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور بڑے ہو کر ابھریں گے۔






