تازہ ترین
پاک چین دوستی کی ایک اور مثال قائم، پاکستانی خلا باز پرواز کے لیے تیارپاکستان میں رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ متوقع تاریخ سامنے آگئیبلیک ہیڈز بار بار کیوں نکل آتے ہیں؟ ان کی اصل وجہ اور چھٹکارے کے مؤثر طریقے جانیںواٹس ایپ کا زبردست نیا فیچر متعارف ہونے کو تیارپاکستان کے بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ نے اہم ایڈوائزری جاری کردیمحکمہ موسمیات نے کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کی پیشگوئی کردیایران کا امریکہ کو نیا ایٹمی فارمولا، یورینیم افزودگی 3.6 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش ممکن ہے، مسعود خانخواتین مردوں سے زیادہ عمر کیوں پاتی ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی سائنسی وجوہات جانیںپاک چین دوستی کی ایک اور مثال قائم، پاکستانی خلا باز پرواز کے لیے تیارپاکستان میں رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ متوقع تاریخ سامنے آگئیبلیک ہیڈز بار بار کیوں نکل آتے ہیں؟ ان کی اصل وجہ اور چھٹکارے کے مؤثر طریقے جانیںواٹس ایپ کا زبردست نیا فیچر متعارف ہونے کو تیارپاکستان کے بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ نے اہم ایڈوائزری جاری کردیمحکمہ موسمیات نے کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کی پیشگوئی کردیایران کا امریکہ کو نیا ایٹمی فارمولا، یورینیم افزودگی 3.6 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش ممکن ہے، مسعود خانخواتین مردوں سے زیادہ عمر کیوں پاتی ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی سائنسی وجوہات جانیں
کاروبار

بجلی صارفین پر 23 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ ڈالنے کی درخواست، نیپرا 17 نومبر کو سماعت کرے گا

ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک اور ممکنہ مالی بوجھ سامنے آگیا ہے، کیونکہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین سے 23 ارب 33 کروڑ روپے وصول کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرادی ہے۔

یہ درخواست رواں سال کی تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ سے متعلق ہے، جس میں مختلف مدات کے تحت اضافی وصولیوں اور کمی کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ نیپرا درخواست کا جائزہ لینے کے بعد طے کرے گا کہ بجلی صارفین کے بلوں میں فی یونٹ کتنی تبدیلی کی جائے گی۔

کیپیسٹی چارجز کی مد میں 38 ارب 92 کروڑ روپے مانگ لیے گئے

درخواست میں کیپیسٹی چارجز کی مد میں 38 ارب 91 کروڑ 70 لاکھ روپے وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آپریشنز اینڈ مینٹیننس کے اخراجات کی مد میں 5 ارب 59 کروڑ 70 لاکھ روپے اضافے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

تقسیم کار کمپنیوں نے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات کے اثرات کی مد میں 7 ارب 79 کروڑ روپے جبکہ دیگر متعلقہ چارجز کی مد میں 27 کروڑ 20 لاکھ روپے کا اضافہ بھی مانگا ہے۔

دوسری جانب انکریمنٹل کنسمپشن پیکج کے اثرات کی مد میں 29 ارب 25 کروڑ 20 لاکھ روپے کی کمی تجویز کی گئی ہے۔ اضافی وصولیوں اور مجوزہ کمی کو شمار کرنے کے بعد صارفین سے مجموعی طور پر 23 ارب 32 کروڑ 60 لاکھ روپے وصول کرنے کی درخواست سامنے آئی ہے۔

کے الیکٹرک صارفین بھی ممکنہ اضافے کی زد میں

درخواست کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ نیپرا کی منظوری کی صورت میں کراچی کے بجلی صارفین بھی اس ایڈجسٹمنٹ سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے بجلی کی پیداواری لاگت اور دیگر متعلقہ اخراجات میں ہونے والی تبدیلیوں کو صارفین کے بلوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ اسی عمل کے تحت بجلی کے نرخ بڑھانے یا کم کرنے کی درخواستیں دائر کی جاتی ہیں۔

نیپرا 17 نومبر کو درخواست کی سماعت کرے گا

نیپرا نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی درخواست پر 17 نومبر 2026 کو سماعت مقرر کی ہے۔ اس موقع پر درخواست میں شامل مختلف مالی مدات اور ان کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

سماعت کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ بجلی صارفین پر اضافی بوجھ منتقل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے یا درخواست میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے۔

صارفین کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ اگر درخواست منظور ہوگئی تو فی یونٹ بجلی کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوگا اور اس کا ماہانہ بل پر کیا اثر پڑے گا۔ فی الحال فی یونٹ ایڈجسٹمنٹ کی حتمی شرح سامنے نہیں آئی۔

نیپرا کے فیصلے کے بعد ہی بجلی صارفین کو معلوم ہوسکے گا کہ جولائی تا ستمبر 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت ان کے بلوں میں کتنی رقم شامل کی جائے گی۔