اچار کھانے کے ساتھ ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ کھانے میں اچار شامل کرنا پسند کرتے ہیں، کیونکہ اس کا کھٹا اور تیکھا ذائقہ سادہ کھانے کو بھی مزیدار بنا دیتا ہے۔
گھروں میں آم، لیموں، گاجر، شلجم اور مرچوں سمیت مختلف سبزیوں اور پھلوں سے اچار تیار کیا جاتا ہے۔ بازار میں بھی اس کی کئی اقسام دستیاب ہیں۔ تاہم، اچار کا زیادہ استعمال صحت کے لیے بعض مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ خاص طور پر زیادہ نمک اور تیل والے اچار کو روزانہ بڑی مقدار میں کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق اچار کے صحت پر اثرات اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزا اور کھانے کی مقدار پر منحصر ہوتے ہیں۔ کچھ اچار میں نمک زیادہ ہوتا ہے، جبکہ بعض اقسام میں تیل بھی بڑی مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے اچار کھاتے وقت صرف اس کے ذائقے پر نہیں بلکہ اس میں موجود نمک اور چکنائی پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
1۔ زیادہ اچار کھانے سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے
اچار کے زیادہ استعمال سے صحت کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات میں بلند فشارِ خون یعنی ہائی بلڈ پریشر بھی شامل ہے۔ اس کی بڑی وجہ اچار میں موجود نمک کی زیادہ مقدار ہے۔ نمک میں سوڈیم پایا جاتا ہے، جس کا ضرورت سے زیادہ استعمال جسم میں پانی کی مقدار اور توازن کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس سے بلڈ پریشر بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر طویل عرصے تک برقرار رہے تو دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو اچار اور دیگر نمکین غذاؤں کے استعمال میں خاص احتیاط کرنی چاہیے۔ صحت مند افراد کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ روزانہ کی خوراک میں نمک کی مجموعی مقدار کو محدود رکھیں۔
2۔ اچار کا زیادہ استعمال گردوں کو متاثر کرسکتا ہے
گردے جسم سے فاضل مادے خارج کرنے اور پانی و نمکیات کا توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب غذا میں نمک کی مقدار مسلسل زیادہ ہو تو جسم میں پانی جمع ہونے اور بلڈ پریشر بڑھنے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔ یہ صورتِ حال گردوں کی صحت پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
زیادہ سوڈیم کا طویل عرصے تک استعمال خاص طور پر ان افراد کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے جنہیں پہلے سے گردوں کی بیماری یا ہائی بلڈ پریشر کا سامنا ہو۔ ایسے افراد کو ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق نمک کا استعمال محدود کرنا چاہیے۔ اچار مکمل طور پر چھوڑنا ہر شخص کے لیے ضروری نہیں، لیکن اس کی مقدار کم رکھنا بہتر ہے۔
3۔ اچار بنانے سے بعض وٹامنز کی مقدار کم ہوسکتی ہے
سبزیوں اور پھلوں سے تیار کیے جانے والے اچار میں کچھ غذائی اجزا موجود رہ سکتے ہیں۔ تاہم، اچار بنانے کے دوران استعمال ہونے والے طریقوں سے ان کی غذائیت میں تبدیلی آسکتی ہے۔ مثال کے طور پر بعض سبزیوں اور پھلوں کو دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے، جبکہ تیاری کے دوسرے مراحل میں بھی کچھ حساس وٹامنز کی مقدار کم ہوسکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اچار میں موجود تمام غذائی اجزا ختم ہوجاتے ہیں۔ غذائیت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اچار کن اجزا سے بنایا گیا ہے اور اسے تیار کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ اس لیے اچار کو تازہ سبزیوں اور پھلوں کا مکمل متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ روزانہ کی غذا میں تازہ سبزیاں، پھل اور دیگر غذائیت سے بھرپور غذائیں شامل کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔
4۔ تیل والے اچار میں چکنائی کی مقدار پر توجہ دیں
بعض اقسام کے اچار میں ذائقہ برقرار رکھنے اور تیاری کے لیے تیل استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے اچار کے صحت پر اثرات تیل کی قسم اور استعمال ہونے والی مقدار پر منحصر ہوتے ہیں۔ اگر غذا میں غیر صحت بخش چکنائی زیادہ ہو تو یہ خون میں کولیسٹرول کی سطح کو متاثر کرسکتی ہے۔
خصوصاً ٹرانس فیٹ اور سیر شدہ چکنائی کا زیادہ استعمال نقصان دہ کولیسٹرول، یعنی ایل ڈی ایل، بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے برعکس، ہر قسم کا تیل کولیسٹرول پر یکساں اثر نہیں ڈالتا اور نہ ہی ہر اچار میں ٹرانس فیٹ موجود ہوتی ہے۔ اس لیے اچار خریدتے وقت اس کے اجزا اور تیاری کے طریقے کو دیکھنا مفید ہے۔ تیل والے اچار کو بھی محدود مقدار میں استعمال کرنا چاہیے۔
5۔ بازار کے اچار کا انتخاب احتیاط سے کریں
بازار میں دستیاب اچار کی مختلف اقسام میں نمک، تیل اور دیگر اجزا کی مقدار مختلف ہوسکتی ہے۔ بعض تیار شدہ مصنوعات میں نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے پیک شدہ اچار خریدتے وقت غذائی معلومات اور اجزا کی فہرست پڑھنا بہتر ہے۔ اگر کم نمک والی قسم دستیاب ہو تو اسے ترجیح دی جاسکتی ہے۔
گھر میں اچار تیار کرتے وقت بھی نمک اور تیل کی مقدار مناسب رکھنی چاہیے۔ خاص طور پر ان افراد کو زیادہ احتیاط کرنی چاہیے جنہیں بلڈ پریشر، دل یا گردوں کی بیماری لاحق ہو۔ ان کے لیے اچار کی مناسب مقدار کا تعین ان کی مجموعی صحت اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ہونا چاہیے۔
اچار کھانے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟
اچار کو مکمل طور پر ترک کرنا ضروری نہیں۔ اسے مناسب مقدار میں کھانے کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم، روزانہ بڑی مقدار میں اچار کھانے کی عادت سے بچنا چاہیے۔ کم نمک والی اقسام منتخب کرنا اور تیل کی مقدار پر توجہ دینا بہتر انتخاب ہوسکتا ہے۔
اس کے ساتھ متوازن غذا کو معمول بنانا بھی ضروری ہے۔ تازہ سبزیاں، پھل، دالیں اور دیگر غذائیت سے بھرپور غذائیں روزانہ کی خوراک کا حصہ ہونی چاہییں۔ یاد رکھیں کہ اچار کھانے کا ذائقہ بڑھا سکتا ہے، لیکن یہ صحت مند اور متوازن غذا کا متبادل نہیں ہے۔ اعتدال کے ساتھ اس کا استعمال ذائقے اور صحت کے درمیان بہتر توازن قائم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔






