چہل قدمی کو صحت بہتر بنانے کے لیے ایک آسان اور مفید ورزش سمجھا جاتا ہے۔ یہ جسم کو متحرک رکھنے اور روزمرہ کی سرگرمیوں کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
تاہم، ایک نئی طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صرف چہل قدمی کرنا ہی نہیں بلکہ چلنے کی رفتار بھی اہمیت رکھتی ہے۔ تیز رفتاری سے چلنے والے افراد میں قبل از وقت موت کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔
یہ تحقیق ناروے کی نارویجن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین نے کی۔ اس میں 4 ہزار سے زائد افراد کے طبی ریکارڈ اور چہل قدمی کی رفتار سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ تیز رفتاری سے چلنے اور طویل زندگی کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق اس تحقیق سے روزانہ کی زندگی میں جسمانی سرگرمی کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔
تحقیق کیسے کی گئی؟
تحقیق میں شامل افراد 1980 کی دہائی میں ایک طبی تحقیقی منصوبے کا حصہ بنے تھے۔ ان کا ہر چار سے پانچ سال بعد تفصیلی طبی معائنہ کیا جاتا رہا۔ اس طرح محققین کو ان کی صحت اور جسمانی حالت میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔
2012 اور 2013 کے دوران ان افراد کی چہل قدمی کی رفتار بھی جانچی گئی۔ اس مقصد کے لیے ایک خاص ڈیوائس استعمال کی گئی، جس کی مدد سے یہ معلوم کیا گیا کہ وہ ایک منٹ میں کتنے قدم چلتے ہیں۔ شرکا کو پہلے 2.44 میٹر کا فاصلہ اپنی معمول کی رفتار سے طے کرنے کو کہا گیا۔ اس ٹیسٹ کو تین مرتبہ دہرایا گیا اور حاصل ہونے والی اوسط رفتار کو تجزیے میں شامل کیا گیا۔
محققین نے نو دن تک معلومات جمع کیں۔ اس دوران چلنے کی رفتار کے ساتھ روزانہ اٹھائے جانے والے قدموں کی تعداد کا بھی اندازہ لگایا گیا۔ اس کے بعد شرکا کی صحت کا مزید 12 سال تک جائزہ لیا گیا تاکہ چہل قدمی کی رفتار اور موت کے خطرے کے درمیان تعلق کو سمجھا جاسکے۔
تیز چلنے سے قبل از وقت موت کا خطرہ کتنا کم ہوا؟
تحقیق کے نتائج کے مطابق تیز رفتاری سے چلنے والے افراد میں 12 سال کے عرصے کے دوران کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 23 فیصد تک کم پایا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چلنے کی رفتار کسی شخص کی جسمانی صحت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرسکتی ہے۔
محققین نے بتایا کہ تقریباً 1.2 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چلنے والے افراد میں قبل از وقت موت کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہونے کا تعلق سامنے آیا۔ اسی طرح ایک منٹ میں تقریباً 112 قدم چلنے والے افراد میں یہ خطرہ 17 سے 18 فیصد تک کم پایا گیا۔
تاہم، ان نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ تیز چلنے سے ہر شخص میں موت کا خطرہ لازماً اسی شرح سے کم ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں سامنے آنے والے اعداد و شمار ایک تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کسی فرد کی صحت پر عمر، بیماریوں، جسمانی سرگرمی اور دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
چلنے کی رفتار صحت کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟
محققین کے مطابق چہل قدمی کی رفتار کسی شخص کی مجموعی جسمانی حالت کا ایک اہم اشارہ ہوسکتی ہے۔ عام طور پر جو افراد اچھی جسمانی صحت رکھتے ہیں، وہ نسبتاً تیزی سے چلنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر کسی شخص کی صحت متاثر ہو یا اسے دائمی بیماریوں کا سامنا ہو تو اس کی چلنے کی رفتار کم ہوسکتی ہے۔
تحقیق سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات جسمانی صحت میں خرابی آنے کے ساتھ چلنے کی رفتار بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔ اس لیے یہ اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے کہ کوئی شخص روزمرہ کی جسمانی سرگرمیاں کتنی آسانی سے انجام دے رہا ہے۔
اس کے علاوہ تیز چلنے کی صلاحیت اس بات کا اشارہ بھی ہوسکتی ہے کہ کسی شخص کی جسمانی کارکردگی بہتر ہے اور وہ موجودہ بیماریوں کو مناسب طریقے سے قابو میں رکھے ہوئے ہے۔ تاہم، صرف چلنے کی رفتار کی بنیاد پر کسی بیماری کی تشخیص نہیں کی جاسکتی۔
چہل قدمی کو روزمرہ کا معمول بنانا کیوں ضروری ہے؟
چہل قدمی ان افراد کے لیے بھی ایک آسان جسمانی سرگرمی ہے جو سخت ورزش نہیں کرسکتے۔ اسے روزمرہ کے معمول میں شامل کرکے جسم کو متحرک رکھا جاسکتا ہے۔ اپنی سہولت کے مطابق باقاعدگی سے چلنا اور جسمانی سرگرمی میں بتدریج اضافہ کرنا مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
اگر صحت اجازت دے تو معمول کی رفتار سے شروع کرکے آہستہ آہستہ رفتار بڑھائی جاسکتی ہے۔ تاہم، ہر شخص کے لیے تیز چلنا ضروری یا یکساں طور پر مناسب نہیں ہوتا۔ بزرگ افراد، دل یا پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا افراد اور وہ لوگ جنہیں چلنے میں درد یا سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے، انہیں اپنی جسمانی حالت کے مطابق سرگرمی کا انتخاب کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق صحت مند زندگی کے لیے صرف چہل قدمی کی رفتار پر توجہ دینا کافی نہیں۔ متوازن غذا، مناسب نیند، تمباکو نوشی سے پرہیز اور دیگر صحت مند عادات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔






