وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جھنگ میں پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی گاڑی کے استعمال کے معاملے پر ڈپٹی کمشنر بابر صاحب دین کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن پنجاب کی جانب سے 25 اکتوبر 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی کمشنر جھنگ بابر صاحب دین کو فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 18 کے افسر ہیں۔ نوٹیفکیشن میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن میں رپورٹ کریں۔ انہیں مزید احکامات جاری ہونے تک او ایس ڈی بھی قرار دیا گیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں کار ریلی کے دوران پیرا کی گاڑی بھی دکھائی دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اس ویڈیو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسی ریگولیٹری اتھارٹی کے وسائل کو مقررہ دائرہ کار سے ہٹ کر استعمال کرنا سنگین خلاف ورزی ہے۔ سرکاری وسائل کا غیر سنجیدہ مقاصد کے لیے استعمال طے شدہ پالیسی کے خلاف ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اسی بنیاد پر ڈپٹی کمشنر جھنگ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پیرا کی گاڑی کے استعمال میں ڈپٹی کمشنر بابر صاحب دین کا براہ راست کردار کیا تھا۔ اس لیے ان کی ذمہ داری کے حوالے سے حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید تفصیلات ضروری ہیں۔
اس معاملے کا تعلق مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے پروٹوکول سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے 20 مئی 2026 کو ثاقب چدھڑ پر ہراسانی اور دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے 22 مئی کو پولیس کو درخواست بھی دی تھی۔ بعد ازاں 5 جون کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مقدمہ درج کیا۔
دوسری جانب ثاقب چدھڑ کے وکیل علی اشفاق نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام شواہد عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔ یہ الزامات اور ان کے جواب سے متعلق معاملہ الگ ہے، جبکہ پیرا کی گاڑی کے استعمال پر ڈپٹی کمشنر کے خلاف انتظامی کارروائی کا تعلق سرکاری وسائل کے استعمال سے ہے۔
ڈپٹی کمشنر کی تبدیلی کے بعد سرکاری گاڑیوں اور دیگر وسائل کے استعمال سے متعلق انتظامی ذمہ داریوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پیرا ایک ریگولیٹری ادارہ ہے، اس لیے اس کی گاڑیوں کا استعمال مقررہ فرائض اور پالیسی کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ اس معاملے میں مزید حقائق سامنے آنے سے یہ واضح ہو سکے گا کہ گاڑی کس مقصد کے لیے استعمال ہوئی اور اس حوالے سے انتظامی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔






