تازہ ترین
بلوچستان کے شیر باز مری نے عالمی ایم ایم اے چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیت لیاگوادر شہر پر بھارتی منفی پروپیگنڈا بے نقاب، تمام معمولاتِ زندگی پرامن طور پر رواں دواںپاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، ستمبر میں 435 ملین ڈالر کا ہدف حاصلمودی حکومت کا پاکستان دشمن ایجنڈا، سکھ یاتریوں کے پاکستان آنے پر پابندی برقرارافغان فریڈم فرنٹ کی بگرام ملٹری بیس پر کارروائی، 10 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک و زخمیقومی کرکٹر صائم ایوب کو پاکستان اسکواڈ سے ریلیز کردیا گیاگوگل میپس استعمال کرتے وقت یہ غلطی نہ کریں!!! ورنہ فون کی بیٹری تیزی سے ختم ہوگیصبح یا رات؟ بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے چہل قدمی کا بہترین وقت کون سا ہے؟بلوچستان کے شیر باز مری نے عالمی ایم ایم اے چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیت لیاگوادر شہر پر بھارتی منفی پروپیگنڈا بے نقاب، تمام معمولاتِ زندگی پرامن طور پر رواں دواںپاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، ستمبر میں 435 ملین ڈالر کا ہدف حاصلمودی حکومت کا پاکستان دشمن ایجنڈا، سکھ یاتریوں کے پاکستان آنے پر پابندی برقرارافغان فریڈم فرنٹ کی بگرام ملٹری بیس پر کارروائی، 10 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک و زخمیقومی کرکٹر صائم ایوب کو پاکستان اسکواڈ سے ریلیز کردیا گیاگوگل میپس استعمال کرتے وقت یہ غلطی نہ کریں!!! ورنہ فون کی بیٹری تیزی سے ختم ہوگیصبح یا رات؟ بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے چہل قدمی کا بہترین وقت کون سا ہے؟
پاکستان

پنشن ملازم کا آئینی حق ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 30 سال تک سرکاری ملازمت کرنے والے ریٹائرڈ ملازم کو پنشن اور دیگر واجبات کی عدم ادائیگی کے معاملے پر اہم فیصلہ سنا دیا ہے۔

عدالت نے وزارتِ خزانہ اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ درخواست گزار کو تمام قانونی ریٹائرمنٹ مراعات اور پنشن جاری کی جائیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ پنشن کوئی خیرات یا سرکاری رعایت نہیں، بلکہ ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شاہ رخ ارجمند نے شہری نوید اللہ کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار نے طویل سرکاری سروس مکمل کرنے کے باوجود پنشن اور دیگر واجبات نہ ملنے پر عدالت سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد متعلقہ حکام کو تمام قانونی تقاضے پورے کرکے ادائیگی کا عمل مکمل کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پنشن ملازم کی دورانِ ملازمت خدمات کا موخر شدہ معاوضہ ہے۔ یہ رقم ریٹائرمنٹ کے بعد ملازم کو مالی تحفظ فراہم کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔ اس لیے پنشن کو کسی قسم کی خیرات، عطیہ یا احسان نہیں سمجھا جا سکتا۔ طویل عرصے تک سرکاری فرائض انجام دینے والے ملازم کو قانون کے مطابق اس کے جائز حقوق ملنے چاہییں۔

فیصلے میں وزارتِ خزانہ کے اس مؤقف کا بھی جائزہ لیا گیا کہ درخواست گزار کی 2008 میں کنٹریکٹ پر تعیناتی فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے ذریعے نہیں ہوئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ بھرتی کا درست طریقہ کار اختیار کرنا اور ضرورت کے مطابق کیس ایف پی ایس سی کو بھیجنا متعلقہ ادارے کی ذمہ داری تھی۔ اگر اس عمل میں کوئی کمی رہ گئی تھی تو اس کی سزا ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ جب کسی ملازم کی سروس کو طویل عرصے تک تسلیم کیا جاتا رہا ہو تو ریٹائرمنٹ کے وقت اس کی پنشن روکنے کے لیے قانونی بنیاد ہونا ضروری ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں تقریباً دو دہائیوں تک ملازمت کو تسلیم کیے جانے کے بعد پنشن روکنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ فیصلے کی مصدقہ نقل موصول ہونے کے 30 دن کے اندر تمام قانونی کارروائی مکمل کی جائے اور درخواست گزار کی پنشن سمیت دیگر واجبات جاری کیے جائیں۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ کیس کا حتمی فیصلہ کرتے وقت ملازم کی کنفرمیشن، ریگولرائزیشن اور گریڈ 17 کی منظوری سے متعلق سابقہ احکامات کو مدنظر رکھا جائے۔

درخواست گزار نوید اللہ نے 28 مئی 1995 کو وزارتِ خوراک و زراعت میں گریڈنگ انسپکٹر کے طور پر ملازمت شروع کی تھی۔ اس وقت ان کا گریڈ بی ایس 13 تھا۔ بعد میں 16 اگست 1997 کو ان کی خدمات مستقل کر دی گئی تھیں۔ اس طرح ان کی سرکاری ملازمت کا سلسلہ کئی برس تک جاری رہا۔

18ویں آئینی ترمیم کے بعد وزارتوں کی تنظیم نو اور تحلیل کے نتیجے میں نوید اللہ کو سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز منتقل کر دیا گیا۔ بعد ازاں کابینہ کی سب کمیٹی کے فیصلے کے تحت 2012 میں انہیں ریگولرائز کیا گیا۔ 2015 میں ان کی خدمات نیشنل سیونگز میں ضم کر دی گئیں۔

اس کے بعد 2016 کے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے صدرِ مملکت کی منظوری سے نوید اللہ کو 28 مئی 1995 سے ذاتی حیثیت میں گریڈ 17 دینے کی منظوری دی گئی۔ ان انتظامی فیصلوں کے باوجود ریٹائرمنٹ کے وقت ان کی پنشن اور واجبات کا معاملہ حل نہ ہو سکا۔

نوید اللہ تقریباً 30 سال کی سروس مکمل کرنے کے بعد 22 اپریل 2025 کو ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچے۔ تاہم پنشن اور دیگر واجبات جاری نہ ہونے پر انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت کے حالیہ فیصلے میں متعلقہ حکام کو ان کے کیس پر دوبارہ غور کرنے اور تمام قانونی ریٹائرمنٹ مراعات جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کی پنشن اور ریٹائرمنٹ کے حقوق کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ سرکاری ملازم کی طویل خدمات کے بعد پنشن کا معاملہ قانون کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ متعلقہ اداروں کو بھرتی اور انتظامی کارروائیوں میں اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے تاکہ ان کی کسی کوتاہی کا نقصان ملازم کو نہ اٹھانا پڑے۔