لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی نظر بندی میں توسیع کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے نورین نیازی کی بیماری سے متعلق الگ درخواست دائر کرنے کی ہدایت کر دی۔
لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان، عظمی خان اور نورین نیازی کی نظر بندی میں توسیع کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
جسٹس عبہر گل خان نے سکینہ نیازی کی اپنے وکیل رانا مدثر عمر ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کی، جس میں ہوم سیکریٹری اور ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔
وکیل سلیمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ نورین نیازی شدید بیمار ہیں اور پی آئی سی میں داخل ہیں جبکہ فیملی کو ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی، جس پر جسٹس عبہر گل نے سلیمان اکرم راجہ کو میڈیکل کے لیے الگ درخواست دینے کی ہدایت کی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 30 روزہ نظر بندی مکمل ہونے کے بعد 7 اکتوبر کو ڈپٹی کمشنر نے توسیع کا نوٹیفکیشن غیر قانونی طور پر جاری کیا اور تینوں بہنوں کی درخواست گزار کی فیملی اور وکیل سے ملاقات بھی نہیں کروائی گئی۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 7 اکتوبر کے نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دینے کا حکم دیا جائے۔






