بھارتی پنجاب اسمبلی نے کرتارپور راہداری کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس حوالے سے ایک متفقہ قرارداد منظور کر لی ہے۔
وزیر تعلیم ہرجوت سنگھ بینس کی جانب سے بھارتی پنجاب اسمبلی میں کرتارپور راہداری فوری کھولنے کے لیئے قرارداد پیش کی گئی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے بھی کرتارپور راہداری کھولنے کی اس قرارداد کی بھرپور حمایت کی ہے اور پاکستان کے ساتھ سفارتی روابط کے ذریعے تمام مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔ وزیراعلیٰ بھگونت مان کا کہنا ہے کہ مذہبی عقیدت کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔
قرارداد کے متن میں مرکزی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کرتارپور راہداری کو دوبارہ کھولنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور زائرین کے لیے بلا تعطل رسائی کو یقینی بنائے۔
بھارتی پنجاب اسمبلی کا ماننا ہے کہ کرتارپور راہداری مذہبی ہم آہنگی اور مشترکہ ورثے کی ایک عظیم علامت ہے، اس لیے سکھ یاتریوں کی سہولت کے لیے راہداری کو کھولا جانا اور سفری ضوابط کو آسان بنایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت قومی سلامتی کے نام پر اس معاملے پر سیاسی کھیل کھیل رہی ہے اور زائرین کے جذبات کو نظرانداز کر رہی ہے۔






