ایران نے امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاملے پر کسی بھی قسم کے مذاکرات کا امکان مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل وعدہ خلافیوں اور حملوں کے بعد اب امریکیوں کو ہی اس تنازع میں سرنڈر کرنا پڑے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیک زاد نے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور اس کی فوج کی عظیم پائیداری، زبردست طاقت اور لوہے جیسے عزم نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو حقیقت کی سخت دیوار کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں یہ تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ ان کے پاس ایران کی طاقت کو ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے اور اس تنازع میں ایرانی قوم نہیں بلکہ امریکی سرنڈر کریں گے۔
علی نیک زاد نے واضح کیا کہ تہران کا کسی بھی دباؤ کے باوجود ایٹمی معاملے پر مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ امریکہ کے پاس پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نیا نہیں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس عظیم قوم نے اس میدان میں اپنے دشمنوں کو مذاکرات کے کافی مواقع فراہم کیے، لیکن بدلے میں صرف بار بار کی وعدہ خلافیاں اور ایٹمی تنصیبات پر غیر قانونی بمباری ہی ملی ہے۔






