تازہ ترین
نیا امریکی حملہ ہوا تو جواب مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا، ایرانی فوجامریکیوں کے پاس پیش کرنے کو کچھ نیا نہیں، ایران اب ایٹمی معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا، علی نیک زادپاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ تصادم کی صورت میں تمام جغرافیائی حدود ختم کرنے کا اعلانگلگت بلتستان کی عوام کو جمہوری اور آئینی حقوق دینا ناگزیر ہے، بلاول بھٹو زرداریسزا اور جزا کے نظام کے بغیر کوئی بھی چیز ٹھیک نہیں ہو سکتی، گورنر خیبرپختونخوابھارتی پنجاب اسمبلی کا کرتارپور راہداری فوری کھولنے کا متفقہ مطالبہپاکستان نے آسٹریلیا کو ہرا کر اوور 40 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیاوزیراعلیٰ پنجاب نے اگلے 3 سال میں 10 لاکھ نوجوانوں کی اسکل ڈویلپمنٹ کا ہدف دے دیانیا امریکی حملہ ہوا تو جواب مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا، ایرانی فوجامریکیوں کے پاس پیش کرنے کو کچھ نیا نہیں، ایران اب ایٹمی معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا، علی نیک زادپاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ تصادم کی صورت میں تمام جغرافیائی حدود ختم کرنے کا اعلانگلگت بلتستان کی عوام کو جمہوری اور آئینی حقوق دینا ناگزیر ہے، بلاول بھٹو زرداریسزا اور جزا کے نظام کے بغیر کوئی بھی چیز ٹھیک نہیں ہو سکتی، گورنر خیبرپختونخوابھارتی پنجاب اسمبلی کا کرتارپور راہداری فوری کھولنے کا متفقہ مطالبہپاکستان نے آسٹریلیا کو ہرا کر اوور 40 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیاوزیراعلیٰ پنجاب نے اگلے 3 سال میں 10 لاکھ نوجوانوں کی اسکل ڈویلپمنٹ کا ہدف دے دیا
دنیا

بھارت میں 1984ء کے سکھ قتلِ عام کو 42 برس مکمل، متاثرین اب بھی انصاف سے محروم

1984ء

بھارت میں سکھ برادری کے خلاف 1984ء کے خوفناک اور منظم قتلِ عام کو 42 برس مکمل ہو گئے ہیں، جبکہ متاثرین تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔

بھارت کی تاریخ کے بدترین سانحات میں سے ایک، 1984ء کے سکھ کش قتلِ عام کو 42 برس بیت چکے ہیں۔ 31 اکتوبر 1984ء کو بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے فوراً بعد دارالحکومت نئی دہلی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں سکھ مخالف پرتشدد لہر کا آغاز ہوا، جو کئی دنوں تک بلا تعطل جاری رہی۔

اس دوران ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ سکھوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، سکھ خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے گھروں، دکانوں نیز کاروباری املاک کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیموں اور عالمی ذرائع ابلاغ نے ان واقعات پر جاری کی گئی رپورٹس میں انکشاف کیا ہے کہ یہ محض اچانک بھڑکنے والا تشدد نہیں تھا بلکہ ایک منظم قتلِ عام تھا۔

متعدد رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں کو سکھ خاندانوں کے گھروں کے پتوں اور نشان دہی کے لیے سرکاری ووٹر فہرستیں اور دیگر خفیہ معلومات فراہم کی گئی تھیں۔

اس ہولناک سانحے میں بھارتی انتظامیہ اور ریاستی اداروں کے مشکوک کردار اور 42 سال گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندانوں کو انصاف نہ ملنے پر عالمی برادری میں آج بھی شدید سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔