تازہ ترین
سعودی سفیر کا ڈائنو ویلی اسلام آباد کا دورہ، پاکستان کے سیاحتی امکانات اور عوامی سفارت کاری کا مثبت اظہارنیا امریکی حملہ ہوا تو جواب مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا، ایرانی فوجامریکیوں کے پاس پیش کرنے کو کچھ نیا نہیں، ایران اب ایٹمی معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا، علی نیک زادپاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ تصادم کی صورت میں تمام جغرافیائی حدود ختم کرنے کا اعلانگلگت بلتستان کی عوام کو جمہوری اور آئینی حقوق دینا ناگزیر ہے، بلاول بھٹو زرداریسزا اور جزا کے نظام کے بغیر کوئی بھی چیز ٹھیک نہیں ہو سکتی، گورنر خیبرپختونخوابھارتی پنجاب اسمبلی کا کرتارپور راہداری فوری کھولنے کا متفقہ مطالبہپاکستان نے آسٹریلیا کو ہرا کر اوور 40 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیاسعودی سفیر کا ڈائنو ویلی اسلام آباد کا دورہ، پاکستان کے سیاحتی امکانات اور عوامی سفارت کاری کا مثبت اظہارنیا امریکی حملہ ہوا تو جواب مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا، ایرانی فوجامریکیوں کے پاس پیش کرنے کو کچھ نیا نہیں، ایران اب ایٹمی معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا، علی نیک زادپاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ تصادم کی صورت میں تمام جغرافیائی حدود ختم کرنے کا اعلانگلگت بلتستان کی عوام کو جمہوری اور آئینی حقوق دینا ناگزیر ہے، بلاول بھٹو زرداریسزا اور جزا کے نظام کے بغیر کوئی بھی چیز ٹھیک نہیں ہو سکتی، گورنر خیبرپختونخوابھارتی پنجاب اسمبلی کا کرتارپور راہداری فوری کھولنے کا متفقہ مطالبہپاکستان نے آسٹریلیا کو ہرا کر اوور 40 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیا
پاکستان

اندرونی انتشار ملک کو کمزور کر رہا ہے، سیاسی کشیدگی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے، بیرسٹر گوہر

بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ اندرونی انتشار سے سب سے زیادہ نقصان ملک کو ہوتا ہے، ملک میں کشیدگی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی تقریر میں بعض الفاظ سے گریز بہتر ہوتا، تاہم ان کی تقریر کے جواب میں ہونے والے حملے بھی ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے رات کو مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں کشیدگی نہ بڑھانے کی بات کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اندرونی انتشار سے سب سے زیادہ نقصان ملک کو ہوتا ہے اور ملک میں اس وقت کشیدگی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ ہم خود سیاسی انتقام اور زیادتیوں کا شکار رہے ہیں اور ہماری اپنی حکومت بھی بات چیت کرتے کرتے ختم کردی گئی ہے۔

انہوں نے گزشتہ رات شیر علی ارباب کے گھر پر ہونے والی توڑ پھوڑ کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک وزیر کے گھر میں توڑ پھوڑ اور نقصان پہنچانے کی کیا وجہ ہے اور کیا یہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہے یا کسی کو پیغام دیا جا رہا ہے؟

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ وہ ریڈ لائن عبور کرنے والے نہیں ہیں، کیونکہ ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان اور ریاست سب سے پہلے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی قیادت کو کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور اگر دوغلی پالیسی ختم ہوگی تو جمہوریت کے لیے حالات بہتر ہوں گے۔

انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی برابر ہونی چاہیے کیونکہ اگر حکومت کے 10 اور اپوزیشن کے 5 ارکان ہوں تو اصلاحات پر بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات غیر جانبدار اور نتائج پر مبنی ہونی چاہئیں اور وہ عوام کی امنگوں کے مطابق انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2017 میں انتخابی اصلاحات کے لیے حکومت اور اپوزیشن کی بڑی مشترکہ کمیٹی بنائی گئی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات آل پارٹیز کانفرنس کے ایجنڈے پر ہوئی تھی اور اس کے انعقاد پر مزید مشاورت کی جائے گی جبکہ مولانا سے جلد دوبارہ ملاقات بھی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان اور محسن نقوی کی تقاریر پر تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ متنازع معاملات سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ کشیدگی بڑھانے سے صرف نقصان ہی ہوگا۔